عادل راجہ کی نام نہاد تحقیقاتی صحافت کا جنازہ نکل گیا ہے کیونکہ برطانوی عدالت نے عادل راجہ پر پیشہ ور جھوٹے کی مہر لگادی ہے۔
جھوٹ میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں، برطانیہ کی کورٹ آف اپیل نے کیمرے کے سامنے بھاشن دینے والے عادل راجہ کو اوقات دکھاتے ہوئے اپیل کو مسترد کردیا ہے۔
برطانیہ کی ہائی کورٹ نے عادل راجہ پر پیشہ ور جھوٹے کی مہر لگادی جب کہ برسوں سے سورسز اور اندر کی خبروں کا چورن بیچنے والے کے عدالت میں پسینے چھوٹ گئے۔
جج کے ثبوت مانگنے پر عادل راجہ کی زبان گنگ ہوکر رہ گئی، برطانوی عدالت نے عادل راجہ کے الزامات کو بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا۔
مظلومیت اور سیاسی انتقام کا مؤقف بھی عدالتی جانچ میں مسترد کردیا گیا اور یوٹیوب پر جھوٹ کی قیمت وصول کرنے والے کو عدالت میں جھوٹ کا کاروبار مہنگا پڑگیا۔
عدالت سے رسوا ہونے کے ساتھ ساتھ عادل راجہ پر تین لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈ یعنی تقریبا بارہ کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد عادل راجہ کے لیے قانونی راستے اور اپیل کے امکانات بھی محدود ہیں جب کہ جھوٹے یوٹیوبرز کے لیے یہ عبرت ناک مثال ہے کیونکہ جھوٹ کا سفر طویل سہی لیکن انجام ذلت آمیز ہی ہوتا ہے۔



















