راولپنڈی: خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے صحافیوں کی آئی ایس پی آر میں آپریشن غضب للحق کے تناظر میں اہم نشست ہوئی جس میں صحافیوں کو آپریشن کی تفصیلات اور خطے کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان کو افغانستان اور افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم افغان طالبان کی موجودہ حکومت خطے میں دہشت گردی کی ایک مرکزی پراکسی ماسٹر کے طور پر کام کررہی ہے۔
اس حکومت نے متعدد دہشت گرد تنظیموں کو سہولتیں فراہم کرکے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ پیدا کردیا ہے۔ افغان طالبان حکومت کو واضح کر دیا گیا ہے کہ انہیں پاکستان اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
آپریشن غضب للحق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ہی تسلسل ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان حکومت دہشت گردی کی سرپرستی مکمل طور پر ختم کرنے کی قابل یقین ضمانت اور عملی اقدامات نہیں کرلیتی جب کہ پاکستان کو اس معاملے میں کوئی جلدی نہیں ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ خوارج اسلام کی ایک مسخ شدہ اور خود ساختہ تشریح پیش کررہے ہیں۔ اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
معصوم انسانی جانوں کا قتل عام، خواتین پر مظالم، مساجد پر حملے اور ان کا دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال پاکستان کی مذہبی اور معاشرتی روایات کے منافی ہے۔ تمام مکتبہ فکر کے علماء نے ان خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ کو افضل جہاد قرار دیا ہے۔
پاکستان دہشت گردی میں ملوث فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں، سہولت کاری کے مراکز اور سرحد سے متصل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنارہا ہے۔ تمام کارروائیاں مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاری کے مراکز کے خلاف کی جا رہی ہیں۔
ان آپریشنز میں سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کے تاثر پر مبنی رپورٹس نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ دہشت گردی کے نتیجے میں معصوم پاکستانی جانوں کے ضیاع سے رو گردانی کے مترادف ہیں۔
وزارت اطلاعات اور سیکورٹی ادارے باقاعدگی سے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت سے میڈیا اور عوام کو آگاہ کر رہے ہیں اور ان کارروائیوں کی مستند ویڈیو رپورٹس بھی جاری کی جارہی ہیں۔
آپریشن غضب للحق کے دوران افغان سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ان کے ہندوستانی سرپرست میڈیا کی طرف سے جھوٹی اور من گھڑت افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔
افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاری کے مراکز کے علاوہ پاکستان کے اندر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد آئی بی اوز کامیابی سے کیے جارہے ہیں۔
باہمی اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔ ایران اور خطے کے حالات کے تناظر میں پاکستان کی سلامتی کو خطرہ قرار دینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان تمام طاقتوں اور ممالک کے ساتھ تعمیری اور مثبت روابط پر یقین رکھتا ہے اور اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔


















