صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور جمعہ کے روز ممکنہ احتجاج کے پیش نظر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکیورٹی صورتحال اور حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی رینج، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ سمیت پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ، ڈی آئی جی ایس ایس یو، ڈی آئی جی ایسٹ اور ڈی آئی جی ساؤتھ بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے دوران ممکنہ احتجاج اور عوامی اجتماعات کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات پر غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ کسی بھی صورت میں امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہونے دی جائے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
ضیاء الحسن لنجار نے کمشنر کراچی اور پولیس حکام کو ہدایت دی کہ علمائے کرام سے رابطہ قائم کرکے انہیں حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جائے تاکہ باہمی تعاون کے ذریعے امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی افسر کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر داخلہ سندھ نے مزید کہا کہ 33 ویں صوبائی ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے مطابق عوامی اجتماعات، ریلیوں اور احتجاج کے دوران اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ قانون شکنی یا امن و امان میں خلل ڈالنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ایسے افراد کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔



















