حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں 55 روپے 55 پیسے فی لیٹر تک اضافہ کر دیا ہے جس کا اطلاق آج رات سے ہوگا، جبکہ آئندہ سے پیٹرولیم قیمتوں کا جائزہ ہر ہفتے لیا جائے گا۔
نائب وزیراعظم نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے عوام پر بوجھ کم رکھنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی ہے جو روزانہ عالمی تیل مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان اس وقت پیٹرولیم ذخائر کے حوالے سے مستحکم پوزیشن میں ہے، تاہم اگر عالمی بحران طویل ہوا تو مزید فیصلے بھی کرنا پڑ سکتے ہیں۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے آتا ہے، اس لیے ممکنہ رکاوٹ کے پیش نظر سعودی عرب سے رابطہ کیا گیا ہے اور خام تیل سے بھرے دو جہاز پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
حکومت نے ناجائز منافع خوری اور پیٹرول پمپس بند کرنے کے معاملے پر بھی سخت ایکشن کا عندیہ دیتے ہوئے صوبائی حکام کو نگرانی مزید سخت کرنے کی ہدایت دی ہے۔


















