اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کٹوتی اور تمام محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خطے کو درپیش سنگین صورتحال اور ملکی معاشی مشکلات سے آگاہ کیا جب کہ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پورا خطہ شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہے اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔
مسلم ممالک سے یکجہتی
وزیراعظم نے پاکستان کی مسلم ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب، یو اے ای، کویت، بحرین، ترکیہ اور آذربائیجان پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں مسلم ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور برادر ممالک کی سلامتی و استحکام کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان کو مغربی سرحد پر دہشت گردی کا سامنا ہے لیکن بہادر افواج سپہ سالار کی قیادت میں وطن کی سلامتی کا مقدس فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
معاشی صورتحال اور تیل کی قیمتیں
وزیراعظم نے معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چند روز قبل 60 ڈالر فی بیرل تھی جو اب 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خام تیل کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں اور حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھیں گی۔
سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کا اعلان
وزیراعظم نے سرکاری اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے تیل میں 2 ماہ کے لیے 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ تمام سرکاری دفاتر کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے جب کہ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے میں ایمبولینسز اور عوامی استعمال والی بسیں شامل نہیں ہیں۔
تنخواہوں میں کٹوتی
وزیراعظم نے کہا کہ وزیر، مشیر اور معاونین اگلے 2 ماہ تنخواہ نہیں لیں گے جب کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جارہی ہے۔ 3 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 2 دن کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خریداریوں اور بیرون ملک دوروں پر پابندی
سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر اور دیگر اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی۔
وفاقی اور صوبائی وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ وزیراعظم، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ پر بھی یہ پابندی لاگو ہوگی۔ صرف ملکی مفاد کے انتہائی ناگزیر بیرون ملک دورے کیے جاسکیں گے۔
توانائی کے تحفظ کے اقدامات
ایندھن کی بچت کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی۔ سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹل کے بجائے سرکاری جگہوں پر ہوں گی۔ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔
دفتری اوقات میں تبدیلی
وزیراعظم نے تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دینے کا اعلان کیا۔ دفاتر ہفتے میں صرف 4 دن کھلیں گے۔ سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروس کے علاوہ 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا۔
تعلیمی اداروں کے لیے اہم اعلان
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ تمام اسکولوں کی رواں ہفتے کے آخر سے 2 ہفتے کی چھٹیاں ہوں گی جب کہ ہائر ایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جارہا ہے۔
دفاتر اور اضافی چھٹی کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا جب کہ صنعت و زراعت کے شعبوں پر بھی ورک فرام ہوم کا اطلاق نہیں ہوگا۔
ذخیرہ اندوزوں کے لیے وارننگ
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں اور پیٹرول و ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی پر بھرپور کارروائی کی جائے گی۔



















