حکومتِ سندھ نے ممکنہ فیول بحران سے نمٹنے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے بھر میں نئی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
فیصلے کے مطابق سندھ میں 4 روزہ ورک ویک کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سرکاری دفاتر بند رہیں گے جبکہ سرکاری دفاتر میں 50 فیصد عملے کو ‘ورک فرام ہوم’ کے تحت کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی کا حکم دیا گیا ہے اور تمام غیر ضروری گاڑیاں فوری گراؤنڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کفایت شعاری مہم کےتحت صوبائی وزراء اور مشیروں نے تین ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا رضاکارانہ فیصلہ کیا ہے جبکہ اعلیٰ سرکاری افسران کی دو دن کی تنخواہ بھی رضاکارانہ طور پر کاٹی جائے گی۔
سرکاری محکموں میں نئی گاڑیوں اور قیمتی اشیاء کی خریداری پر جون 2026 تک مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ سرکاری وفود کے بیرون ملک دوروں پر پابندی، تمام وزراء اور افسران صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کے لیے بھی بڑا فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق سندھ بھر کے اسکولوں میں 16 سے 31 مارچ تک موسمِ بہار کی تعطیلات رہیں گی۔
دوسری جانب کالجز اور یونیورسٹیز میں 100 فیصد آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
شادی کی تقریبات کے لیے بھی نئی حد مقررکردی گئی جس میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود، صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی۔
موٹر ویز اور ہائی ویز پر گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کی ہدایت، خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔
سرکاری سطح پر افطار پارٹیوں اور ڈنر پر پابندی عائد، اجلاس اب صرف ویڈیو لنک کے ذریعے ہوں گے۔


















