کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے آج سینٹرل پولیس آفس کراچی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شہر بھر کی سیکیورٹی صورتحال، مانیٹرنگ نظام اور یوم شہادت حضرت علیؑ کے موقع پر کیے گئے حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
سینٹرل پولیس آفس پہنچنے پر انسپیکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو اور دیگر سینئر پولیس افسران نے وزیر داخلہ سندھ کا استقبال کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے۔
وزیر داخلہ سندھ نے دورے کے دوران مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا معائنہ کیا جہاں انہیں شہر بھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے جاری مانیٹرنگ، جرائم کی روک تھام اور سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں آئی جی سندھ نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہر کے مختلف علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے جب کہ اہم مذہبی مواقع کے پیش نظر خصوصی سیکیورٹی پلان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد جاری ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ مؤثر مانیٹرنگ اور بروقت انسدادی اقدامات جرائم کے تدارک اور امن و امان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، ضروری آلات اور تربیت سے مکمل طور پر لیس کیا جائے تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
بعد ازاں وزیر داخلہ سندھ نے یوم شہادت حضرت علیؑ کے موقع پر برآمد ہونے والے مرکزی جلوس کے روٹس کا بھی دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر انہیں جلوس کے روٹس پر پولیس ڈپلائمنٹ، ٹریفک مینجمنٹ، نگرانی کے نظام اور دیگر حفاظتی انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر داخلہ سندھ نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جلوس کے پرامن انعقاد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوم شہادت حضرت علیؑ ہمیں صبر، برداشت اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے۔
صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، انتظامیہ اور علمائے کرام کے باہمی تعاون سے ہر اہم مذہبی موقع پر مثالی نظم و ضبط قائم رکھا جاتا ہے۔
دورے کے موقع پر ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، آئی ٹی، ٹریننگ اور دیگر متعلقہ سینئر افسران بھی موجود تھے۔




















