اسلام آباد: پاکستان پر بیرونی قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ملک نے ایک ہزار 458 ارب روپے کا نیا بیرونی قرض حاصل کیا۔
رپورٹ کے مطابق حاصل کیا گیا قرض گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 12.7 فیصد زیادہ ہے جبکہ جولائی سے جنوری تک مجموعی طور پر 2 ہزار 857 ارب روپے کے قرض حاصل کیے گئے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران پاکستان نے 5 ارب 17 کروڑ ڈالر کا نیا بیرونی قرض لیا، جس میں رول اوور قرضے، آئی ایم ایف کی قسط اور دیگر ممالک سے حاصل کردہ مالی معاونت شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر جبکہ چین نے ایک ارب ڈالر کے قرض کو رول اوور کیا اور اسی دوران پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط بھی موصول ہوئی۔
دستاویز کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں نے سات ماہ کے دوران پاکستان کو 2 ارب 12 کروڑ ڈالر فراہم کیے جبکہ اس عرصے میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 62 کروڑ 45 لاکھ ڈالر اور عالمی بینک سے 60 کروڑ 80 لاکھ ڈالر قرض حاصل کیا گیا۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ سعودی عرب سے 70 کروڑ 53 لاکھ ڈالر اور چین سے 26 کروڑ 94 لاکھ ڈالر قرض حاصل کیا گیا۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت 1 ارب 48 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں آئی ایم ایف سے 20 کروڑ 95 لاکھ ڈالر موصول ہوئے جبکہ توسیع فنڈز سہولت کے تحت ملنے والی رقم اس کے علاوہ ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ سات ماہ کے دوران بجٹ سپورٹ کے لیے 51 کروڑ 87 لاکھ ڈالر حاصل کیے گئے، جبکہ نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 2 کروڑ ڈالر اور پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 53 کروڑ 62 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق مالی سال کے دوران نئے قرضوں اور رول اوورز کی مد میں مجموعی طور پر 25 ارب ڈالر ملنے کا تخمینہ ہے، تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2 ارب ڈالر کے رول اوور تاحال نہیں ہو سکے۔



















