سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی عوام کو ہراساں کرنے لیے بھیجے گئے ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیاہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سیکیورٹی اداروں نے ڈرونز کو سافٹ اور ہارڈ کِل طریقوں کے ذریعے ناکارہ بنا دیا، جس کے باعث یہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ تاہم ڈرون کے ملبے کے گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہو گئے۔
بیان کے مطابق یہ ڈرون حملے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی مذموم کوشش تھے اور ایسے اقدامات افغان طالبان کی دہشت گرد ذہنیت کی یاد دہانی کراتے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک جانب افغان طالبان عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب طالبان سے وابستہ پراکسی گروپس اور ڈرون حملوں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان کے ڈرون حملے کے دعوے بے نقاب، پاکستانی فورسز نے دونوں ڈرون ناکارہ بنا دیے، فیکٹ چیک
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام افغان طالبان کی اصل فطرت اور عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں، اور طالبان افغانستان پر ایک کرائے کی دہشت گرد ملیشیا کے طور پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف آپریشن “غضب للحق” دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر افغان طالبان پاکستان کے خلاف دہشت گردی ختم نہیں کرتے تو یہ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدم ہیں اور ڈرون حملوں سمیت دہشت گردی کی ہر شکل کا مقابلہ جاری رکھا جائے گا۔ سیکیورٹی فورسز عوام کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے بچانے کے لیے اپنا دفاعی کردار جاری رکھیں گی اور افغان طالبان کی کسی بھی اشتعال انگیزی کے سامنے ہرگز پسپا نہیں ہوں گی۔




















