Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلاموفوبیا کا عالمی دن: اسلام کو انتہاپسندی سے جوڑنا لاعلمی ہے، صدرمملکت

صدر آصف زرداری نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیا ہے

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اسلام کو انتہا پسندی یا تشدد سے جوڑنے کی کوششیں لاعلمی کی عکاسی کرتی ہیں۔

صدر آصف زرداری نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن مسلم کمیونٹیز کو درپیش تعصب، تشدد کے بڑھتے واقعات کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے، یہ دن مذہبی تنوع کے احترام اور رواداری کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام امن، ہمدردی اورانصاف کا درس دیتا ہے اور بلاتفریق تمام انسانیت کے احترام کا داعی ہے، اسلام کو انتہاپسندی یا تشدد سے جوڑنے کی کوششیں لاعلمی کی عکاسی کرتی ہیں، یہ کوششیں تہذیبوں کے درمیان مکالمے، باہمی مفاہمت کے فروغ کی کوششوں کو کمزور کرتی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق مسلمانوں کیخلاف نفرت، امتیاز اورعدم برداشت کے خلاف متحد ہیں، پاکستان نے انسانی حقوق کے کئی بین الاقوامی کنونشنزکی توثیق کی ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ ہم بین الاقوامی فورمزاور کانفرنسوں میں اسلامو فوبیا کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں، اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، لیکن یہ ایک ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے، اس حق کو نفرت یا تقسیم پیدا کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

صدرمملکت نے کہا کہ عالمی برادری نفرت پرمبنی جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کومضبوط بنائے، عالمی برادری مذہبی رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے مابین عملی تعاون کو فروغ دے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن کرائسٹ چرچ کے اس المناک واقعے کی یاد دلاتا ہے جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑا، نفرت انگیزتقریر، امتیازی سلوک اورعبادت گاہوں پر حملے جیسی اسلاموفوبیا کی کئی صورتیں ہیں، ایسے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے مطابق تمام انسان حقوق کے لحاظ سے آزاد اور برابر پیدا ہوئے ہیں، اس اعلامیہ کا آرٹیکل 2 واضح کرتا ہے کہ ہر شخص کسی بھی قسم کی تفریق کے بغیر تمام حقوق کاحقدارہے، یہ اصول ایک منصفانہ عالمی نظام کیلئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ لاکھوں بیرون ملک مقیم پاکستانی مختلف معاشروں کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں، مسلمانوں کے خلاف تعصب احساس تحفظ ذرائع روزگار اور تعلیم کو متاثر کرتا ہے، کسی بھی شخص کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر رکھا یا رد نہیں کیا جانا چاہیے۔