Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کی 252 چیک پوسٹس تباہ، 684 دہشت گرد ہلاک

قندھار میں پاکستانی فورسز نے دہشت گردوں کے تکنیکی سپورٹ انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا

پاکستانی مسلح افواج نے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے ایک مؤثر آپریشن مکمل کیا۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ اب تک افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے 684 دہشت گرد ہلاک اور 912 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

اس دوران افغان طالبان کی 252 چیک پوسٹس تباہ کی گئیں، جن میں سے 44 پر قبضہ کے بعد تباہ کیا گیا جبکہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی ناکارہ بنائی گئی ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے 73 مقامات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

قندھار میں پاکستانی فورسز نے دہشت گردوں کے تکنیکی سپورٹ انفراسٹرکچر کو تباہ کیا، جو معصوم پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔ اسی دوران طالبان اور فتنہ الخوارج کے اسلحہ و سازوسامان کے ذخیرے کے لیے استعمال ہونے والی سرنگیں بھی تباہ کر دی گئیں تاکہ مستقبل میں ان کے استعمال کو روکا جا سکے۔

وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ آپریشن کے دوران صرف دہشت گردوں کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور کسی شہری آبادی یا سول انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

چترال سیکٹر میں زمینی افواج نے افغانستان کی بدینی پوسٹ پر دہشت گردوں کے لانچ پوائنٹ کو تباہ کیا۔ جاری کردہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی فورسز نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کے بعض عہدیدار اور میڈیا ذرائع جو شہری ہلاکتوں کے غلط دعوے کر رہے ہیں، وہ حقیقت سے بعید ہیں اور یہ پروپیگنڈا ہے۔

آپریشن غضب للحق کے دوران ہونے والے نقصان کا خلاصہ کچھ یوں ہے: 684 دہشت گرد ہلاک، 912 زخمی، 252 چیک پوسٹس تباہ، 44 پر قبضہ کے بعد تباہ، 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ، اور افغانستان میں 73 دہشت گرد ٹھکانوں کو فضائی کارروائی میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ آپریشن مکمل طور پر پاکستان کی قومی سلامتی اور شہری تحفظ کے لیے کیا گیا اور اس میں کسی بھی شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

اس مؤثر کارروائی سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اثاثے اور آپریشنل صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس سے خطے میں دہشت گردی کے خطرات میں کمی آئے گی۔

متعلقہ خبریں