کابل: افغان جریدے کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ذرائع نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا ہے کہ پیر کی رات کابل میں کیمپ فینکس کے دائیں جانب فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔
افغان جریدے کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے حملوں کے بعد قریبی منشیات کے عادی افراد کے اسپتال کو آگ لگادی۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ یہ اسپتال بم سے اڑایا گیا تاہم شائع شدہ تصاویر میں اسپتال کا سائن بورڈ برقرار ہے اور عمارت جل رہی ہے۔
افغان جریدے کہتا ہے کہ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے اس اسپتال پر حملے میں سیکڑوں افراد مارے گئے لیکن انہوں نے 20 لاشوں کی تصاویر بھی جاری نہیں کیں۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے منشیات کے عادی افراد کے کلینک سے تقریباً دو سو میٹر دور اہداف پر بمباری کی۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکر نے افغان طالبان حکومت کے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ اسپتال دراصل نشانہ بنائے جانے والے فوجی کیمپ کیمپ فینکس سے کئی کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
فیکٹ چیکر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ طالبان نے اپنی ابتدائی پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی جس میں اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
















