کراچی میں بے ہنگم اور غیر منظم ٹریفک شہریوں کے لیے جان لیوا ثابت ہونے لگی ہے، جہاں رواں سال 2026 کے ابتدائی دو ماہ اور 17 دنوں کے دوران ٹریفک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اس مختصر عرصے میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 228 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 2290 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
جاں بحق افراد میں 165 مرد، 31 خواتین اور 32 بچے شامل ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہر میں ہیوی ٹریفک سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے، جہاں ڈمپر، ٹریلر اور واٹر ٹینکرز کے باعث متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
ڈمپرز کی ٹکر سے 4 افراد، ٹریلرز کے باعث 37 افراد جبکہ واٹر ٹینکرز کی زد میں آکر 20 افراد جاں بحق ہوئے۔
اسی طرح بسوں اور مزدا گاڑیوں کے حادثات بھی مہلک ثابت ہوئے، جہاں بس کی ٹکر سے 8 اور مزدا کے حادثات میں 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی کمی، ہیوی گاڑیوں کی بے قابو نقل و حرکت اور ناقص نگرانی اس بڑھتے ہوئے المیے کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔



















