ہم پاکستان میں تلسی گیبارڈ کے بیان پر ایک شدید بحث دیکھ رہے ہیں، سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول رائے یہ سامنے آرہی ہے کہ “ایران کے بعد پاکستان کو اگلا ہدف بنایا جا رہا ہے اور حتمی مقصد ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنا ہے”۔
اس حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ پانچ ممالک جدید، روایتی اور نئی قسم کے میزائل نظام تیار اور تحقیق کر رہے ہیں، جو جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہماری سرزمین کو اپنی زد میں لے سکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم بات قابلِ غور ہے کہ انہوں نے صرف پاکستان کا نام نہیں لیا بلکہ اسے روس، چین، ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ شامل کیا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی امریکی عہدیدار نے پاکستان کے میزائل اور ایٹمی پروگرام پر تشویش ظاہر کی ہو۔ 1985 کے پریسلر ترمیم کے بعد سے پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام پر امریکی صدور، نائب صدور، وزرائے خارجہ، سی آئی اے کے ڈائریکٹرز اور کانگریس کے ارکان کی جانب سے اس سے کہیں زیادہ سخت، جارحانہ اور براہِ راست الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے اس میں کوئی نئی بات نہیں جس پر غیر معمولی تشویش ظاہر کی جائے۔
ان کے مطابق اسٹریٹجک اداروں کے علاوہ وہ نجی کمپنیاں بھی، جن کے معمولی نوعیت کے کاروباری تعلقات پاکستان کے اسٹریٹجک اداروں سے تھے، بارہا سخت پابندیوں کا شکار بنتی رہی ہیں۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں ایسی پابندیوں کا بھرپور استعمال ہم سب دیکھ چکے ہیں اور ان کمپنیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔
محمد سعید نے کہا کہ اس دوران بھاری فنڈنگ سے چلنے والی جدید اور مسلسل پراپیگنڈا مہمات کے نتیجے میں پاکستان میں دو بیانیے مقبول ہوئے، پہلا یہ کہ اس ملک میں کوئی کام “انکل سام” کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا اور دوسرا یہ کہ کئی سیاسی اور عسکری رہنما ایٹمی پروگرام کے معاملے میں سمجھوتہ کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان بیانیوں میں کوئی حقیقت ہوتی تو پاکستان کبھی بھی اتنی ترقی یافتہ اور مضبوط ایٹمی اور میزائل صلاحیت حاصل نہ کر پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں ہر قیادت نے اس پروگرام کو قومی بقا کا مسئلہ سمجھا اور امریکی و مغربی دباؤ کا دانشمندی اور مضبوطی سے مقابلہ کیا۔ ہمیں ان سب پر فخر ہونا چاہیے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ موجودہ جیوپولیٹیکل صورتحال میں ہمیں پاکستان کا موازنہ شام، عراق، لیبیا یا ایران کے ایٹمی پروگرام سے نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ممالک ابھی ابتدائی مراحل میں تھے جبکہ ہم ایک مستحکم اور تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) کے مطابق تاریخ میں کسی بھی مستحکم ایٹمی طاقت کو کبھی ایٹمی صلاحیت سے محروم نہیں کیا گیا اور پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ممکن نہیں، ہمیں اپنی اسٹریٹجک کمیونٹی اور عوام کے عزم پر اعتماد رکھنا چاہیے۔
تلسی گیبارڈ کے بیان کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات پر فوری اور عوامی ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا، متعلقہ ادارے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نسبتاً بہتر سمت میں ہیں، اگرچہ یہ بہتری عارضی بھی ہو سکتی ہے اور ٹرمپ جیسے رہنماؤں کی پالیسیوں میں غیر یقینی عنصر موجود رہتا ہے۔
بیان کے اختتام پر محمد سعید نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں پر اعتماد رکھیں اور غیر ضروری خدشات سے گریز کریں۔














