بھارتی جریدے دی وائر نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کی مؤثر سفارت کاری نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سفارتی محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے نہ صرف خود کو ایک اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر منوایا بلکہ متعدد حساس معاملات میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔ جریدے نے لکھا کہ نریندر مودی کی حکومت کے بلند و بانگ دعوے عملی میدان میں مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔
دی وائر کے مطابق واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی دہلی کے بجائے اسلام آباد کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی حکمت عملی بری طرح ناکام رہی، جبکہ پاکستان نے متوازن سفارت کاری کے ذریعے دونوں فریقین کا اعتماد حاصل کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سزاؤں کی شدید مذمت
جریدے کے مطابق عالمی سطح پر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بھارت حد سے زیادہ امریکا اور اسرائیل کے قریب ہو چکا ہے، جس کے باعث اس کی اسٹریٹجک خودمختاری متاثر ہوئی ہے، جبکہ پاکستان نے بیک وقت واشنگٹن اور تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھا۔
دی وائر نے مزید لکھا کہ امریکی پالیسی ساز بھارت کو زیادہ تر ایک اسلحہ خریدار کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ اہم سفارتی معاملات میں پاکستان پر انحصار بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ پر مشتمل ایک سفارتی بلاک نے مغربی ایشیا میں نئی صف بندی پیدا کی ہے، جس کے باعث بھارت کا کردار محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
اسی تناظر میں چاہ بہار بندر گاہ میں بھارت کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار بتائی گئی ہے۔
جریدے کے مطابق جس ملک کو مودی حکومت نے غیر اہم قرار دیا، وہی آج علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک اہم ضامن کے طور پر سامنے آیا ہے، جبکہ بھارت کی پالیسیوں نے اسے سفارتی طور پر تنہا کر دیا ہے۔



















