Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکی کانگریس میں پہلی بار پاک امریکا تعلقات پر تاریخی سمپوزیئم

سمپوزیئم میں امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام، تھنک ٹینک کمیونٹی، سابق سفراء اور سیکیورٹی و معاشی ماہرین کی شرکت

امریکی کانگریس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی جانب سے پاک امریکا تعلقات پر ایک اہم اور تاریخی سمپوزیئم کا انعقاد کیا گیا، جو تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہا۔

کیپٹیل ہل کی تاریخی عمارت میں منعقدہ اس نشست کا اہتمام امریکی کانگریس کی پاکستان کاکس کے چیئرمین ٹام سوازی اور جیک برگ مین کی قیادت میں پاکستانی سفارتخانے کے تعاون سے کیا گیا۔

سمپوزیئم کا موضوع “پاک امریکا تعلقات: ماضی، حال اور مستقبل” تھا، جس میں سیکیورٹی اور معاشی تعلقات پر خصوصی سیشنز منعقد کیے گئے۔ کانفرنس میں امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام، تھنک ٹینک کمیونٹی، سابق سفراء اور سیکیورٹی و معاشی ماہرین نے شرکت کی۔

امریکی وزارت خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشیا پال کاپور نے امریکی انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاک امریکا تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی، جس سے معدنیات سمیت مختلف اقتصادی شعبوں میں باہمی شراکت داری کو فروغ ملا۔

پاکستان کاکس کے چیئرمین ٹام سوازی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سمپوزیئم کا مقصد دوطرفہ تعلقات کی تاریخ، سیکیورٹی اور معاشی پہلوؤں کا جائزہ لے کر مستقبل کے لیے بہتر حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کانفرنس کے انعقاد پر امریکی کانگریس کی پاکستان کاکس، خصوصاً ٹام سوازی اور جیک برگ مین سمیت دیگر اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکا شراکت داری تاریخی اہمیت کی حامل ہے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے نہایت نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق دونوں بڑے آبادی والے ممالک کے درمیان تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سفیر پاکستان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اپنے اہم جغرافیائی محل وقوع کے باعث عالمی سطح پر نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر چکا ہے۔ انہوں نے عالمی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں سیکیورٹی تعاون غالب رہا، تاہم اب اقتصادی تعلقات کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور پاکستان وسیع البنیاد اقتصادی شراکت داری کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان آبادی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکی معیشت کی ضروریات کو کم لاگت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔

کانفرنس میں معروف معاشی ماہرین نے پاکستان کی معاشی استعداد اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری پر تفصیلی گفتگو کی۔ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نٹالیا بیکر نے بھی خطاب کیا اور اس اہم اقدام کو سراہا۔

سمپوزیئم کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاک امریکا تعلقات پر اس نوعیت کی کانفرنسز کا باقاعدگی سے انعقاد جاری رکھا جائے گا۔