بانی پی ٹی آئی کے بیٹے قاسم خان نے یورپی یونین سے پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا جوکہ کھلی معاشی تخریب کاری ہے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی معیشت نازک بحالی کے مرحلے سے گزر رہی ہے بیرونی تجارتی مراعات کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش دراصل قومی مفادات پر براہِ راست حملہ ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کی جانب سے پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت ختم کروانے کے لیے لابنگ کی اپیل محض غیر ذمہ دارانہ نہیں بلکہ ایسا اقدام ہے جو ذاتی سیاسی مفادات کو کروڑوں افراد کی معاشی بقا پر ترجیح دیتا ہے۔
جی ایس پی پلس کوئی علامتی رعایت نہیں بلکہ یہ کلیدی برآمدی شعبوں کو سہارا دیتی ہے وسیع پیمانے پر روزگار کو یقینی بناتی ہے اور پاکستان کی یورپی منڈیوں تک رسائی کی بنیاد ہے۔ اسے کسی فرد کو قانونی کارروائی سے نجات دلانے کے لیے سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہر اخلاقی سیاسی اور قومی حد کو پار کرنا ہے۔
ایسے اقدامات کو اختلافِ رائے یا جمہوری اظہار کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درحقیقت ایک سوچا سمجھا عمل ہے جس کے ذریعے داخلی سیاسی تنازعات کو بیرونی سطح پر لے جا کر پاکستان کی معاشی استحکام عالمی ساکھ اور مستقبل کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔
یہ اپوزیشن سیاست نہیں بلکہ کھلی معاشی تخریب کاری ہے۔ کوئی بھی ریاست ان عناصر کو برداشت نہیں کر سکتی جو ذاتی مفادات کے حصول کے لیے غیر ملکی قوتوں کو اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں۔















