شہرِ قائد میں بے قابو ٹریفک نے خوفناک شکل اختیار کر لی، جہاں رواں سال کے ابتدائی دو ماہ اور 27 دنوں کے دوران پیش آنے والے حادثات نے 254 قیمتی جانیں چھین لیں، اور ہر گزرتا دن ایک نئے المیے کی داستان بن گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق اس مختصر عرصے میں 2600 سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ نشانہ ہیوی ٹریفک بنی۔ ڈمپر، ٹریلر اور واٹر ٹینکر جیسے بڑے گاڑیوں نے شہریوں کے لیے سڑکوں کو موت کا راستہ بنا دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 184 مرد، 34 خواتین اور 36 معصوم بچے شامل ہیں، جو اس بڑھتے ہوئے بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ خاص طور پر ہیوی ٹریفک کی زد میں آ کر 87 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
مزید تفصیلات کے مطابق ڈمپرز نے 5، ٹریلرز نے 39، واٹر ٹینکرز نے 25 افراد کی جان لی، جبکہ بسوں اور مزدا گاڑیوں کے حادثات میں بھی متعدد شہری جاں بحق ہوئے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی ناقص حکمت عملی اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سڑکیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، جہاں ہر سفر زندگی اور موت کے درمیان معلق دکھائی دیتا ہے۔


















