Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تیاری شروع، باضابطہ اعلان آج متوقع

سرکاری دفاتر کے لیے ہائبرڈ ورکنگ ماڈل متعارف کرانے کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا پلان تیار کر لیا ہے جس کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔ مجوزہ مسودے کے تحت سرکاری و نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور تجارتی سرگرمیوں کے اوقات کار میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جبکہ توانائی اور فیول کی بچت کے لیے بھی سخت اقدامات شامل ہیں۔

پلان کے مطابق بازار اور شاپنگ سینٹرز رات 9:30 بجے بند ہوں گے جبکہ شادی ہالز اور فنکشنز رات 10 بجے تک محدود رہیں گے، جہاں ون ڈش اور 200 افراد کی حد کی پابندی بھی ہوگی۔

ہائبرڈ ورکنگ پالیسی کے تحت ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے نظام نافذ کرنے کی تجویز ہے۔ عام سرکاری دفاتر (5 ورکنگ ڈے) ہفتے میں 3 دن آفس جبکہ 2 دن آن لائن کام کریں گے، اسی طرح سروسز دفاتر (6 ورکنگ ڈے) میں 4 دن آفس اور 2 دن آن لائن ورکنگ ہوگی۔ دفاتر میں 50 فیصد روٹا سسٹم نافذ کیا جائے گا تاکہ آمدورفت کم ہو اور وسائل کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔

آن لائن حاضری کے لیے مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے اور ہر افسر کے لیے کم از کم 65 فیصد حاضری لازمی ہوگی، جبکہ ہفتہ وار آڈٹ ریکارڈ بھی تیار کیا جائے گا جس میں آفس اور آن لائن دونوں سرگرمیاں شامل ہوں گی۔

پرائیویٹ دفاتر میں بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ شروع کرنے کی ہدایت متوقع ہے تاکہ ٹریفک دباؤ اور توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔

توانائی بچت کے اقدامات کے تحت صبح 10:30 بجے سے پہلے اے سی کے استعمال پر پابندی، سرکاری گاڑیوں کے نجی استعمال پر مکمل پابندی اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی شامل ہے، جس میں فیول ریکوری اور گاڑی ضبطی بھی ممکن ہے۔ سینئر افسران کے لیے کمبائن گاڑیوں کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

تعلیمی اداروں کے لیے بھی نئے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت یونیورسٹیز، کالجز اور اسکول ہفتے میں 3 دن آن لائن اور 3 دن فزیکل کلاسز کے تحت چلیں گے، جبکہ مزید 15 دن کی آن لائن پالیسی پر بھی غور جاری ہے۔

مزید تجاویز میں 60 دن کے اندر 50 فیصد سرکاری دفاتر کو سولر انرجی پر منتقل کرنا، سرکاری اداروں میں فیول اور بجلی کی مراعات میں 50 فیصد کمی اور ریلوے ٹکٹوں پر 15 فیصد رعایت شامل ہے تاکہ عوام کو سستے اور متبادل سفر کی طرف راغب کیا جا سکے۔

مالی اقدامات کے تحت انٹرنیٹ اور ٹیلیفون ٹیکس میں 2.5 فیصد کمی جبکہ پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر 5 فیصد ٹیکس اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ ٹول ٹیکس میں 50 روپے فلیٹ اضافہ اور کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرانے کی تیاری بھی جاری ہے۔

حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات کفایت شعاری، توانائی کے تحفظ اور معاشی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جن پر حتمی فیصلہ آئندہ اعلان میں سامنے آئے گا۔

متعلقہ خبریں