وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر آج ملک بھر میں زمین سے محبت کے اظہار کے لیے ارتھ آور منایا جارہا ہے، اس مقصد کے لیے پورے ملک میں روشنیاں بند کردی گئی ہیں۔
ارتھ آور منانے کے سلسلے میں پاکستان کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں رات 8:30 بجے تمام بتیاں گل کر دی گئیں، جو 9:30 بجے تک بند رہیں گی۔
ماحولیاتی چیلنجز سے بھرپور اس دور میں ارتھ آور یاد دہانی کراتا ہے کہ زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے۔
رواں برس ارتھ آور زمین کے لیے ایک گھنٹہ صرف کریں کے عنوان سے منایا جا رہا ہے جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، توانائی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔
اس حوالے سے اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ کرہ ارض کے تحفظ کے لیے آج رات ایک گھنٹے کے لیے غیر ضروری روشنیاں بند رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ماحول کے تحفظ اور توانائی کی بچت کیلئے انفرادی اور اجتماعی اقدامات وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔
وزیراعظم کی قوم سے بجلی بچانے اور ماحول کے تحفظ کی اپیل
وزیراعظم شہباز شریف نے ارتھ آور 2026 کے موقع پر قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ آج رات 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک ایک گھنٹے کے لیے غیر ضروری بجلی اور روشنیاں بند رکھ کر اس عالمی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ارتھ آور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، خصوصاً ایسے دور میں جب دنیا ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کی تھیم “Give an Hour for Earth” یعنی زمین کے لیے ایک گھنٹہ صرف کریں ہے، جس کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ارتھ آور صرف ایک علامتی اقدام نہیں بلکہ ایک عالمی سطح کا لمحہ فکریہ ہے، جو ہمیں ایک پائیدار اور محفوظ ماحولیاتی مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے چھوٹے مگر شعوری اقدامات مل کر بڑی مثبت تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کے خلاف سنجیدہ اقدامات کریں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت اس حوالے سے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں “اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام”، “لیونگ انڈس انیشی ایٹو” اور “ریچارج پاکستان” جیسے اہم اقدامات شامل ہیں، جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جدید وارننگ سسٹمز کی تنصیب بھی کی جا رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف آج کے دن بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی ماحول دوست رویے اپنائیں تاکہ ایک سرسبز، محفوظ اور مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔

















