اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کی جانب سے اہل تشیع کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے مکاری پر مبنی اور توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی بیانات جھوٹی ہمدردی کے پردے میں حقیقت سے انحراف ہیں۔ بھارت میں پسماندہ طبقات کے خلاف تشدد کو بتدریج معمول بنالیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عبادت پر پابندیوں سے لے کر گھروں اور روزگار کو نشانہ بنانے کے واقعات ریکارڈ ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں بھارت میں مبینہ طور پر 55 سے زائد مسلمانوں کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ جنوری 2026 سے اب تک 19 سے زائد مسلمان پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں جان سے جاچکے ہیں جب کہ بھارتی انتہاپسند گروہوں نے غیر قانونی طور پر 11 مساجد کو مسمار کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ جرائم کے مرتکب افراد ریاستی سرپرستی کے باعث کھلے عام گھومتے ہیں۔ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں اور دیگر برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت دوسروں کے بارے میں بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی بیانات دینے سے گریز کرے۔ پاکستان نے بھارت کے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کررہا ہے۔


















