اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں معیشت، توانائی اور علاقائی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا۔
اس اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم، چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے شرکت کی۔
اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔ تیل و گیس سپلائی پر دباؤ کے باوجود ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو مسترد کردیا۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی سپلائی متاثر نہیں ہوگی۔ قومی سطح پر مربوط حکمت عملی سے مہنگائی کے اثرات کم کرنے کا عزم کیا گیا۔
صدر مملکت نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کی ترغیب دینے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے پاکستان کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی پر پڑنے والے اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
واضح رہے کہ وفاق، صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قیادت نے بھی اس اہم اجلاس میں شرکت کی۔
















