Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سندھ میں ریسکیو سروسز کو مربوط نظام کا حصہ بنانے کا فیصلہ

وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کی تنظیم نو اور بہتری کے حوالے سے اہم اجلاس۔

کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت اجلاس میں صوبے میں ریسکیو سروسز کو مربوط نظام کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سندھ میں ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کی تنظیم نو اور بہتری کے حوالے سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ محکموں کے سینئر افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کا بنیادی مقصد صوبے میں ریسکیو سے منسلک تمام اداروں کو ایک مؤثر اور مربوط نظام کے تحت لانا اور ایمرجنسی کے دوران ردعمل کو مزید بہتر بنانا تھا۔

اجلاس میں سیکرٹری بحالی نے صوبے میں جاری ریسکیو اقدامات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکاء نے ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تعمیری اور جامع گفتگو کی اور مختلف عملی تجاویز پیش کیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ صوبے کے تمام ریسکیو اداروں کو ایک چھت تلے لایا جائے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ہوسکے اور ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر ردعمل ممکن ہوسکے۔

انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ایک مرکزی نظام کے تحت منظم کرنے اور تمام ریسکیو سرگرمیاں ایک خود مختار اتھارٹی کے ذریعے انجام دینے کے لیے ’’ریسکیو اتھارٹی‘‘ کے قیام کی تجویز دی۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ریسکیو کے بعد امدادی مرحلہ بھی اتنا ہی اہم ہے، اس لیے ایک جامع اور مربوط نظام تیار کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ مجوزہ ریسکیو اتھارٹی کے قیام سے متعلق سفارشات جلد از جلد حتمی شکل دے کر کمیٹی کو پیش کی جائیں جس کے بعد اسے وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کیا جائے گا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اتھارٹی کے لیے مؤثر آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) مرتب کیے جائیں اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ماڈل سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ انہوں نے اس ادارے کو ایک رول ماڈل کے طور پر مضبوط اور فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایک ونڈو آپریشن کے تحت اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ خریداری اور بھرتی کے تمام عمل مرکزی سطح پر کیے جائیں اور سندھ حکومت کے تحت تمام معاملات کو منظم طریقے سے چلایا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بحالی گیان چند ایس رانی نے کہا کہ ریسکیو اور امدادی کام باہمی تعاون اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کیے جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مؤثر نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے حادثات اور ہنگامی حالات میں ریسکیو آپریشنز کی بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک جامع، خود مختار اور مؤثر ریسکیو اتھارٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جو صوبے بھر میں ایمرجنسی سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور چیئرمین سی ایم آئی ای اینڈ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ شامل تھے۔

علاوہ ازیں سیکرٹری لاء، سیکرٹری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 کے نمائندگان اور بحالی ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

متعلقہ خبریں