Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ثالثی پر اہم مؤقف سامنے آ گیا

مشرق وسطیٰ کی قیادت نے بھی پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کو تسلیم کیا ہے

پاک فوج کے سابق کور کمانڈر اور سابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید نے پاکستان کے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ ثالثی کردار سے متعلق جاری بحث پر اہم تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے ان خدشات کو مسترد کیا ہے کہ پاکستان اس سطح کی ثالثی کے لیے مطلوبہ طاقت یا حیثیت نہیں رکھتا۔

ان کے مطابق گزشتہ 36 گھنٹوں میں عالمی اور ملکی میڈیا میں یہ تاثر ابھرا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ملک کو سفارتی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے اس عمل میں پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، اور جب تنازع کے فریق خود کسی ثالث پر اعتماد کریں تو اس کی عسکری یا معاشی طاقت ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جبکہ قبولیت بنیادی عنصر بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ، چین اور دیگر ممالک نے بھی اس عمل کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ کوششیں مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہیں، جو اس عمل کو وسیع عالمی حمایت فراہم کرتی ہیں۔

ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کی قیادت نے بھی پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کو تسلیم کیا ہے، جو اس تناظر میں انتہائی اہم ہے کیونکہ ایران کو خطے کے دیگر کئی ممالک پر مکمل اعتماد حاصل نہیں۔

انہوں نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ میں یورپ اور امریکا کے کئی ممالک نے بارہا ثالثی کی کوششیں کیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے، تاہم ان کی کوششوں پر کسی نے تنقید نہیں کی۔

اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حالات میں قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کی ثالثی کے باوجود کشیدگی برقرار رہی، لیکن عالمی سطح پر ان کوششوں کو سراہا گیا۔

انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کے دوران کسی بھی ملک کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششیں عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھی جاتی ہیں اور یہ اس ملک کے وقار میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

ان کے مطابق سفارت کاری میں سب سے اہم عنصر “نیک نیتی” ہوتا ہے، اور پاکستان نے 25 جون کی جنگ کے دوران یہی نیک نیتی ثابت کی، جسے ایران اور امریکا دونوں نے تسلیم کیا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایم سعید نے کہا کہ یہی اعتماد اب پاکستان کے لیے ایک قیمتی سفارتی اثاثہ ہے، جسے موجودہ ثالثی عمل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے کردار پر فخر کریں اور مثبت سوچ اپنائیں، کیونکہ یہ کوشش نہ صرف خطے میں امن کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بھی مستحکم کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں