مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات پاکستان میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور مہنگائی نے ایک بار پھر عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستان کے ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں مہنگائی کی شرح میں 1.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سالانہ مہنگائی کی شرح 7.30 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ جولائی سے مارچ تک اوسط مہنگائی 5.67 فیصد رہی۔
رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں مہنگائی 1.34 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 0.96 فیصد بڑھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ پورے ملک میں محسوس کیا جا رہا ہے۔
اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں شہروں میں چکن 13 فیصد، پھل 11.25 فیصد اور سبزیاں 5.01 فیصد مہنگی ہوئیں، جبکہ دال ماش میں بھی 2.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گوشت اور خشک میوہ جات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
تاہم کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی، جن میں ٹماٹر 29.16 فیصد اور انڈے 17.96 فیصد سستے ہوئے، جبکہ آلو اور گندم کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبے نے عوام پر سب سے زیادہ بوجھ ڈالا، جہاں ٹرانسپورٹ سروسز 9.15 فیصد، موٹر فیول 18.01 فیصد اور بجلی 5.08 فیصد مہنگی ہو گئی۔
دیہی علاقوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں رہی، جہاں پھل 14.68 فیصد، سبزیاں 6.84 فیصد اور چکن 6.76 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ ٹماٹر، انڈے اور آلو کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔



















