وزارت اطلاعات و نشریات نے پاک افغان سرحد کے ساتھ خاردار تار ہٹانے سے متعلق گردش کرنے والے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی معلومات حقائق کے منافی ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاک افغان سرحد تقریباً 2640 کلومیٹر طویل اور دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہے، جس کی حفاظت صرف پاکستان کر رہا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلرز کو دراندازی میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ سرحدی صورتحال پر سیکیورٹی ادارے متعدد بار تفصیلی بریفنگ دے چکے ہیں، اور 29 نومبر 2025 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی پریس کانفرنس میں بھی اس معاملے کو واضح کیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور کلپس پرانے اور من گھڑت ہیں، جنہیں “خوارج اور طالبان کے پروپیگنڈے” کا حصہ قرار دیا گیا۔
وزارت اطلاعات نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد پر لگائی گئی باڑ مکمل طور پر محفوظ اور برقرار ہے، اور کسی بھی قسم کی دراندازی کی کوشش کا فوری اور بھرپور جواب دیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق ایسے پروپیگنڈے کا مقصد سیکیورٹی صورتحال کو مسخ کرنا ہے، تاہم پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔



















