بھارت میں نیپاہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ سے متعلق خدشات نے کرکٹ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس کے بعد یہ سوال زور پکڑنے لگا ہے کہ آیا ٹی 20 ورلڈ کپ کا انعقاد محفوظ ماحول میں ممکن ہو پائے گا یا نہیں۔ صحت عامہ کے ماہرین کی وارننگز اور بڑھتی نگرانی نے عالمی ایونٹ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس ایک خطرناک اور جان لیوا مرض ثابت ہو سکتا ہے، جس کی منتقلی اگر قابو سے باہر ہوئی تو بڑے اجتماعات، اسٹیڈیمز اور بین الاقوامی ایونٹس براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔
بھارت کے مختلف علاقوں میں احتیاطی اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں، اسپتالوں کو الرٹ رکھا گیا ہے جبکہ عوام کو غیر ضروری اجتماعات سے گریز کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔
کرکٹ شائقین اور غیر ملکی ٹیموں کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی صحت مکمل طور پر محفوظ بنائی جا سکے گی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ قریبی رابطہ موجود ہے، تاہم حتمی فیصلے حالات کو دیکھ کر کیے جائیں گے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کی بروقت ٹریکنگ اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ٹورنامنٹ کے شیڈول، مقامات یا انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ تاحال ٹی 20 ورلڈ کپ کی منسوخی یا ملتوی ہونے کا کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، مگر خدشات نے عالمی کرکٹ ایونٹ پر غیر یقینی کیفیت طاری کر دی ہے۔
صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بھارت بڑے عالمی ایونٹس کے دوران صحت عامہ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے یا نہیں؟ آنے والے دنوں میں حکومتی اور کرکٹ حکام کے فیصلے اس معاملے کا رخ واضح کریں گے۔


















