قذافی اسٹیڈیم لاہور ایک بار پھر پاکستانی کرکٹ کے سنہری لمحے کا گواہ بن گیا جہاں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر سات سال پرانا حساب برابر کر دیا۔
پاکستانی جنون نے ایک بار پھر سر اٹھایا اور سبز ہلالی پرچم فخر سے بلند ہو گیا۔
سیریز کے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز اسکور کیے، جو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا اب تک کا بڑا ترین مجموعہ ہے۔
پاکستان کی اننگز میں بابر اعظم اور صائم ایوب نے ذمہ دارانہ اور دلکش نصف سنچریاں اسکور کر کے مضبوط بنیاد فراہم کی، جبکہ شاداب خان نے 46 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اسکور کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
فخر زمان، سلمان علی آغا اور خواجہ نافع نے بھی قیمتی رنز جوڑ کر ٹیم کے مجموعے کو مزید مستحکم کیا۔
جواب میں آسٹریلوی ٹیم ہدف کے تعاقب میں دباؤ کا شکار نظر آئی اور مقررہ اوورز میں مطلوبہ رنز حاصل نہ کر سکی۔ یوں پاکستان نے نہ صرف میچ بلکہ پوری سیریز اپنے نام کر کے ایک تاریخی کلین سوئپ مکمل کر لیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے بین وارشوس نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
ٹاس کے موقع پر پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے بتایا تھا کہ ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کے تحت فخر زمان، خواجہ نافع اور شاہین شاہ آفریدی کو فائنل الیون کا حصہ بنایا گیا۔


















