حکومت نے واضح اور حتمی مؤقف اختیار کرتے ہوئے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی، تاہم بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اہم فیصلے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تفصیلی مشاورت کی گئی، جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیراعظم سے ملاقات کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
حکومتی سطح پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کے دعوے بھارت خود پامال کرتا رہا ہے، اس لیے پاکستان کسی دباؤ میں آ کر پاک بھارت میچ نہیں کھیلے گا۔
شیڈول کے مطابق پاکستان کو ورلڈ کپ کے گروپ اے میں بھارت، نیدرلینڈز، امریکا اور نمیبیا کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
پاکستان کا پہلا میچ 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف شیڈول ہے، جبکہ 15 فروری کو کولمبو میں پاک بھارت مقابلہ رکھا گیا تھا، تاہم ذرائع کے مطابق پاکستانی ٹیم اس میچ کا حصہ نہیں بنے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے، جس کے بعد ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ شرکت کی صورت میں قومی ٹیم کی نئی کٹ کی رونمائی بھی جلد متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کیلئے پلان بی بھی تیار کر رکھا ہے۔ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت نہ کر سکا تو پاکستان، پاکستان شاہینز اور انڈر 18 ٹیموں پر مشتمل ایک متبادل ٹورنامنٹ لاہور میں منعقد کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ قومی وقار، خودداری اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا—اور بھارت کو کرکٹ کے میدان میں بھی من مانے فیصلوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


















