پاکستانی اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا، جب دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران آسٹریلوی بیٹر کیمرون گرین ان کے خلاف مبینہ طور پر ’’چکنگ‘‘ کا اشارہ کرتے دکھائی دیے۔
یہ منظر اس وقت سامنے آیا جب گرین عثمان طارق کی گیند پر شاداب خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
کیمرون گرین، جنہوں نے میچ میں 35 رنز اسکور کیے، جیسے ہی پویلین کی جانب لوٹے تو براڈکاسٹ کیمروں نے ان کے ایک اشارے کو قید کر لیا۔
سوشل میڈیا پر اس اشارے کو غیر قانونی بولنگ ایکشن کی طرف اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ عثمان طارق کے ایکشن پر انگلی اٹھائی گئی ہو۔ اس سے قبل بھی انہیں پی ایس ایل 9 اور پی ایس ایل 10 کے دوران مشتبہ بولنگ ایکشن کے الزام میں رپورٹ کیا جا چکا ہے۔
تاہم دونوں مواقع پر عثمان طارق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی منظور شدہ بائیومیکنکس لیب میں آفیشل ٹیسٹ دیے، جہاں ان کے ایکشن کو مکمل طور پر قانونی قرار دیا گیا۔
اس معاملے پر پہلے گفتگو کرتے ہوئے عثمان طارق کا کہنا تھا کہ ان کی بولنگ آئی سی سی کی جانب سے مقرر کردہ 15 ڈگری ایلبو ایکسٹینشن کی حد کے اندر ہے۔
ان کے مطابق کہنی کی ساخت قدرتی طور پر مکمل طور پر سیدھی نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ سے بعض اوقات گیند کے ریلیز پوائنٹ پر غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔
عثمان طارق نے واضح کیا کہ ’’چکنگ‘‘ جیسے الزامات کی صورت میں سب سے بہتر راستہ لیب ٹیسٹنگ ہے، اور اگر ضرورت ہو تو ایکشن میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان میں دو بار آفیشل ٹیسٹ دے چکے ہیں، جہاں انہیں بغیر کسی تبدیلی کے کلیئر کیا گیا۔



















