انٹرنیشنل کرکٹ میں سیاسی، سیکیورٹی اور اخلاقی وجوہات کی بنیاد پر میچز اور ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ کی روایت کوئی نئی نہیں۔ مختلف ادوار میں کئی ممالک نے حالات یا اصولی مؤقف کے تحت کرکٹ مقابلوں سے دستبرداری اختیار کی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں ایسے واقعات کی تفصیل سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1979 میں سری لنکا نے آئی سی سی ٹرافی میں اسرائیل کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا اور پوائنٹس قربان کیے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے مختلف وجوہات کی بنا پر بعض میچز چھوڑے۔
1982 کے ویمنز ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی خواتین ٹیم کو مدعو کیا گیا، تاہم اس نے احتجاجاً شرکت نہیں کی، جبکہ نیدرلینڈز مالی مسائل کے باعث شامل نہ ہو سکا۔
دونوں ٹیموں کی جگہ ایک انٹرنیشنل الیون تشکیل دی گئی، جس میں بھارت، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور نیدرلینڈز کے کھلاڑی شامل تھے۔
1986 میں بھارت نے سری لنکا میں منعقدہ ایشیا کپ میں شرکت سے انکار کیا، جس کی وجہ وہاں تامل باشندوں کے ساتھ سلوک پر تحفظات بتائے گئے۔ اس کے دو سال بعد 1988 میں بھارتی ویمنز ٹیم نے بھی ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لیا۔
1990-91 کے ایشیا کپ سے پاکستان دستبردار ہوا، جبکہ 1993 کا ایشیا کپ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور ممبئی بم دھماکوں کے باعث مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔
1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سری لنکا میں اپنے گروپ میچز کھیلنے سے انکار کر دیا، اس وقت ملک خانہ جنگی کا شکار تھا۔ بعد ازاں سری لنکا نے لاہور میں فائنل کھیل کر آسٹریلیا کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔
2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے زمبابوے کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کیا، جس کی وجہ صدر رابرٹ موگابے کی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بتائے گئے۔ اسی ایونٹ میں نیوزی لینڈ نے بھی کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات کے باعث کینیا کا دورہ نہیں کیا۔
2009 میں انگلینڈ میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں زمبابوے کی ٹیم ویزا مسائل کے باعث شرکت نہ کر سکی، جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔
اسی طرح 2016 میں ڈھاکا کی خراب سیکیورٹی صورتحال کے باعث آسٹریلیا انڈر 19 ٹیم نے ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا اور اس کی جگہ آئرلینڈ کو موقع دیا گیا۔
حالیہ برسوں میں بھی ایسی مثالیں سامنے آئیں۔ 2022 میں نیوزی لینڈ نے سخت قرنطینہ پابندیوں کے باعث ویسٹ انڈیز میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کی، جس کے بعد ایک بار پھر اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا۔
کرکٹ کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ کھیل کے میدان سے باہر کے عوامل کئی بار میدان کے فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔




















