Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا بھارت کے خلاف بائیکاٹ سے پاکستان کو آئی سی سی کی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے؟

پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے گروپ میچ میں وہ بھارت کے خلاف نہیں کھیلے گا۔

پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے گروپ میچ میں بھارت کے خلاف نہیں کھیلے گا جب کہ یہ فیصلہ حکومتِ پاکستان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا ہے۔

اس فیصلے پر آئی سی سی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے توقع رکھتی ہے کہ تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی باہمی قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔

آئی سی سی نے ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ ایسے اقدام کے پاکستان اور عالمی کرکٹ نظام پر سنگین اور طویل المدت اثرات ہوں گے۔

اس اعلان کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ آیا پاکستان واقعی بائیکاٹ پر قائم رہے گا یا نہیں اور اگر ایسا ہوا تو پی سی بی کو کن نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

پاکستان ٹیم پہلے ہی کولمبو میں موجود ہے، جہاں اسے آئرلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ اور 7 فروری کو ٹورنامنٹ کا پہلا میچ کھیلنا ہے۔

آئی سی سی ایونٹس میں شرکت ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ کے تحت ہوتی ہے جس کی ایک شق کے مطابق ہر رکن اس بات کا پابند ہے کہ وہ جس ایونٹ کے لیے کوالیفائی کرے اس کے تمام طے شدہ میچز کھیلے۔

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کے مطابق آئی سی سی یہ مؤقف اختیار کرسکتی ہے کہ پاکستان اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

پی سی بی ممکنہ طور پر اس فیصلے کو فورس ماژور (یعنی حکومتی حکم یا غیر معمولی حالات) کے تحت جواز دینے کی کوشش کرے گا کیونکہ معاہدے میں حکومتی حکم کو فورس ماژور تسلیم کیا گیا ہے۔

تاہم اس کے لیے پی سی بی کو آئی سی سی کو باقاعدہ تحریری اطلاع دینا ہوگی اور یہ بتانا ہوگا کہ حکومتی حکم کس طرح اس کی ذمہ داریوں کو متاثر کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئی سی سی یہ دلیل بھی دے سکتی ہے کہ اگر ایک میچ نہیں کھیلا جاسکتا تو ٹیم پورے ایونٹ میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکتی جبکہ پی سی بی اسے جزوی فورس ماژور قرار دے کر صرف اس ایک میچ میں شکست کو کافی سزا قرار دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان بعد میں ناک آؤٹ مرحلے میں بھارت کے خلاف کھیلتا ہے تو اس سے اس کا مؤقف کمزور پڑسکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انتہائی صورت میں آئی سی سی پی سی بی کے خلاف معاہدے کی منسوخی، مالی جرمانے یا حتیٰ کہ رکنیت معطل کرنے جیسے سخت اقدامات بھی کرسکتی ہے تاہم یہ ایک غیر معمولی قدم ہوگا۔