عالمی کھیلوں کی سب سے بڑی تنظیم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اولمپکس میں صرف حیاتیاتی خواتین ہی خواتین کی کیٹیگری میں حصہ لے سکیں گی۔
آئی او سی کے مطابق اب ایسے ایتھلیٹس کو خواتین کے مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی جو ٹرانس جینڈر ہوں۔ اس سے قبل مختلف فیڈریشنز کی منظوری کے بعد انہیں شرکت کی اجازت دی جاتی تھی تاہم نئے قوانین اس پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیں گے۔
یہ فیصلہ 18 ماہ تک جاری رہنے والے مشاورتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے جس کا اطلاق اولمپک گیمز، یوتھ اولمپکس اور کوالیفائنگ مقابلوں پر ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دنیا بھر کی اسپورٹس فیڈریشنز بھی ان اصولوں کو اپنائیں گی۔
نئے قوانین کے تحت لاس اینجلس اولمپکس 2028 سے خواتین کی کیٹیگری میں شرکت کے خواہشمند تمام ایتھلیٹس کو ایس آر وائی جین ٹیسٹ سے گزرنا ہوگا جو ان کی حیاتیاتی جنس کی تصدیق کرے گا۔
آئی او سی کے بیان کے مطابق سائنسی شواہد کی بنیاد پر ایس آر وائی جین کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایتھلیٹ نے مردانہ جسمانی نشوونما کا تجربہ کیا ہے اس لیے اسے خواتین کے مقابلوں میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔















