ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے جاری گروپ مرحلے کے میچز میں تین سنچریوں سمیت متعدد نئے ریکارڈز قائم ہوگئے ہیں۔
حالیہ ورلڈ کپ کی پہلی سنچری سری لنکن بیٹر پیتھم نیسانکا نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 52 گیندوں پر 100 رنز بنا کر اسکور کی، دوسری سنچری کینیڈین بیٹر یووراج سمرا نے 58 گیندوں پر مکمل کی۔
پاکستان اور نمیبیا کے درمیان گزشتہ روز کھیلے گئے میچ میں پاکستانی بیٹر صاحبزادہ فرحان نے تیسری سنچری 57 گیندوں پر قائم کی۔ گزشتہ ورلڈ کپس کی بات کی جائے تو اب تک مجموعی طور پر 12 سنچریاں بنائی جاچکی ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ریکارڈز دلچسپ موڑ پر، برینڈن ٹیلر منفرد اعزاز کے حامل
2007 میں پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اجرا کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 12سنچریاں بنائی جا چکی ہیں، جن میں سب سے زیادہ دو سنچریاں کرس گیل کے نام ہیں۔
کم عمر ترین سنچری میکر
کینیڈا کے بیٹر یووراج سمرا صرف 19 سال 141 دن کی عمر میں سنچری بنا کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تاریخ کے کم عمر ترین سنچری میکر بن گئے۔ ان کی 110 رنز کی اننگز ٹورنامنٹ کی اب تک کی بڑی انفرادی اننگز بھی رہی۔
تیز ترین نصف سنچری
گلین فلپس نے نیوزی لینڈ کی طرف سے کھیلتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ بنایا۔ انھوں نے صرف 22 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی۔
صاحبزادہ فرحان، دوسرے پاکستانی سنچری میکر
صاحبزادہ فرحان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سنچری بنانے والے دوسرے پاکستانی بیٹر بن گئے، ان سے قبل پاکستان کے احمد شہزاد نے 2014 کے ورلڈ کپ میں سنچری بنائی تھی۔
سب سے بڑا مجموعی اسکور
آئرلینڈ نے عمان کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا مجموعی اسکور 235 رنز بنایا، یہ رواں ایونٹ کا سب سے بڑا اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ کا دوسرا بڑا مجموعی اسکور ہے۔ جبکہ رواں ورلڈ کپ میں اب تک 6 ٹیمیں 200 سے زیادہ رنز بنا چکی ہیں۔
بھارتی ٹیم کے تیز ترین 100 رنز
بھارتی کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کا تیز ترین 100 رنز (41 گیندوں میں) بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنا سب سے بڑا اسکور 175 بھی بنایا۔
سب سے بڑی شراکت
نیوزی لینڈ کے بیٹرز کے درمیان 146 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت نے نیوزی لینڈ کو اہم فتح دلائی، جو حالیہ ورلڈ کپ کی سب سے بڑی شراکت بھی بنی۔
ناقابل شکست بھارت اور جنوبی افریقا
بھارت اور جنوبی افریقا گروپ مرحلے میں تمام میچ جیت کر ناقابل شکست رہے۔ پاکستان بڑے مارجن سے جیت کے بعد سپر ایٹ مرحلے میں پہنچنے والی آخری ٹیم بنا۔




















