سابق کرکٹر تنویر احمد نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ہیڈ کوچ سے فوری طور پر جان چھڑائی جائے۔
بول نیوز کے پروگرام کھیل کا جنون میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس دن سے وہ ٹیم کے ساتھ آئے ہیں، اس وقت سے کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔
تنویر احمد کے مطابق ٹیم میں حکمتِ عملی اور کھیل کی سمجھ بوجھ کا فقدان نظر آ رہا ہے اور سب کو صرف تیز کھیلنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہیڈ کوچ نے پہلی پریس کانفرنس میں آل راؤنڈرز کو زیادہ مواقع دینے کی بات کی تھی، تاہم فیصلوں میں عدم تسلسل دکھائی دیتا ہے۔
تنویر احمد نے کہا کہ بابر اعظم کی فارم متاثر ہونے کے باوجود انہیں مڈل آرڈر میں کھلایا گیا، جس سے ان کے مطابق کھلاڑی کی پوزیشننگ متاثر ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بابر اعظم کو چوتھے نمبر پر کھلانا درست فیصلہ نہیں تھا۔
دوسری جانب سابق کرکٹر فواد مصطفیٰ نے بھی ٹیم سلیکشن پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فخر زمان کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا تو انہیں اوپننگ پوزیشن پر کیوں نہیں کھلایا گیا۔
فواد مصطفیٰ کے مطابق ٹیم میں صرف صاحبزادہ فرحان نے تسلسل سے پرفارم کیا ہے، اور اگر وہ بھی کارکردگی نہ دکھاتے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی تھی۔
دونوں سابق کھلاڑیوں نے سلیکشن پالیسی اور ٹیم مینجمنٹ کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بہتر نتائج کے لیے واضح حکمتِ عملی اور تسلسل ضروری ہے۔



















