قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی نے انگلینڈ سے ہار کا ملبہ قومی ٹیم کے بیٹسمینوں پر ڈال دیا۔
شاہین آفریدی نے ٹیم میں اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان مزید پندرہ سے پچیس رنز بنا لیتا تو انگلینڈ کے خلاف دفاع ممکن ہو سکتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ فلیٹ وکٹ پر 164 رنز کا مجموعہ کم ثابت ہوا، ایسی وکٹ پر مضبوط شراکت اور مڈل اوورز میں ایک مستحکم بلے باز کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔
شاہین آفریدی کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان نے مسلسل وکٹیں گنوائیں، جس کی وجہ سے ٹیم 180 سے 190 رنز تک نہ پہنچ سکی۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی اننگز میں ہیری بروک نے کریز پر جم کر کے رنز بڑھائے اور شراکتوں کو مضبوط کیا، جبکہ پاکستان اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔
مزید پڑھیں: شاہین آفریدی اور حارث رئوف نے وکٹیں لینے کے عالمی اور قومی ریکارڈ بنا دیے
انہوں نے مزید کہا کہ شراکت کے دوران بلے باز کو سنگلز اور ڈبلز لینے چاہییں تاکہ اوور کے لحاظ سے آٹھ سے نو رنز کا ہدف برقرار رہے۔ شاہین کے مطابق انگلینڈ کی جانب سے عادل رشید نے درمیانی اوورز میں بہترین باؤلنگ کی، جس کا کریڈٹ انہیں بھی جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اس میچ میں شاہین آفریدی نے شاندار واپسی کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں، جن میں پہلی ہی گیند پر فل سالٹ کی وکٹ اور بعد ازاں سنچری بنانے والے ہیری بروک کی قیمتی وکٹ بھی شامل تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی کام نئی گیند سے ابتدائی وکٹیں لینا ہے اور وہ اسی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس میچ میں بلے بازی کی ناکامی کے باوجود شاہین آفریدی کی باؤلنگ کارکردگی ٹیم کے لیے مثبت پہلو رہی، تاہم مجموعی طور پر مضبوط بیٹنگ پارٹنرشپس کی ضرورت واضح ہو گئی۔


















