Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہمیشہ فیصلےدرست نہیں ہوسکتے،فیصلوں سےسیکھتےہیں، سلیکشن کمیٹی پی سی بی

فخرزمان اور نسیم شاہ کو نہ کھلانے کا فیصلہ کوچ اور کپتان کا تھا، پریس کانفرنس

قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ورلڈ کپ کارکردگی، آئندہ پالیسی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کے حوالے سے وضاحت کی۔

سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ٹیم کے وہ نتائج نہیں آئے جو امید کی گئی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیم کے تمام سلیکشن کے فیصلے آپس کے کوآرڈینیشن سے ہوتے ہیں اور پلیئنگ الیون میں شامل کھلاڑیوں کا حتمی فیصلہ زیادہ تر ہیڈ کوچ اور کپتان کے ساتھ مشاورت سے کیا جاتا ہے۔

عاقب جاوید کے مطابق بنگلا دیش سیریز سے پہلے 21 کھلاڑی کوچ کو دیے گئے تھے تاکہ ٹیم کی حتمی تشکیل میں سلیکشن کمیٹی کی مشاورت شامل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ فخرزمان اور نسیم شاہ کو نہ کھلانے کا فیصلہ کوچ اور کپتان کا تھا، جبکہ بابراعظم انجری کی وجہ سے بنگلہ دیش سیریز اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں شامل نہیں ہیں۔

سلیکشن کمیٹی کے مطابق عالمی سطح پر پلیئنگ الیون کا فیصلہ اکثر سلیکشن کمیٹی کرتی ہے، مگر پاکستان میں کوچ اور کپتان کو بھی اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ ٹیم کے حتمی فیصلے کریں۔

مزید پڑھیں: علیم ڈار کے استعفیٰ کے بعد شاہد آفریدی کا پی سی بی سے بڑا مطالبہ

عاقب جاوید نے کہا: “میرے لیے کپتان زیادہ اہم ہے کیونکہ وہ اپنی ٹیم کو لڑائیں۔ ہم خود کوچ کو یہ حق دے رہے ہیں کہ وہ پلیئنگ الیون بنائیں۔”

ترجمان پی سی بی عامر میرنے کہا کہ کھلاڑیوں کو ابھی جرمانہ نہیں کیا گیا اور پرفارمنس کی بنیاد پر اسکروٹنی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

سرفراز احمد نے کہا کہ وکٹ کیپر پوزیشن پر ہمارے پاس تین سے چار آپشنز ہیں، جن میں حسیب اللہ اور غازی غوری شامل ہیں۔ غازی غوری اس وقت بہترین آپشن ہیں جبکہ حسیب اللہ کی موجودہ فارم اچھی نہیں تھی۔ شامل حسین کی گزشتہ کارکردگی بہت اچھی رہی ہے اور ٹاپ آرڈر میں ان کی کارکردگی مستحکم ہے، ایک یا دو میچز میں ناکامی پر تنقید نہیں بنتی۔

مصباح الحق نے کہا کہ ڈومیسٹک میں کون پرفارم کرتا ہے، اس پر نظر رکھنی چاہیے اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق بہترین آپشن دیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے ہمیشہ درست نہیں ہوسکتے، مگر ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

عاقب جاوید نے واضح کیا کہ قومی ٹیم شائقین کو بہترین کرکٹ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان میں کرکٹ کو بہت پسند کیا جاتا ہے اور ورلڈ کپ کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے۔ مستقبل کے پلان کے لیے ہیڈ کوچ کے ساتھ مل کر بات چیت جاری ہے تاکہ ٹیم کو مضبوط اور متفقہ طور پر تشکیل دیا جا سکے۔