پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) نے بنگلا دیش کی جانب سے تاخیر سے ریویو لینے پر اپنی شکایت میچ ریفری کے پاس درج کرادی ہے۔
کرکٹ کی عالمی ویبسائٹ کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ بنگلا دیش نے ریویو اس وقت لیا جب اس ڈیلیوری کا ری پلے بڑے اسکرین پر دکھایا گیا تھا، جو کھیل کے قوانین کے مطابق درست نہیں ہے۔
پاکستانی انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے اور اس کے نتیجے نے بنگلا دیش کو کھیل میں ناقابلِ شکست پوزیشن حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس سے پہلے پاکستان کو آخری دو گیندوں پر 12 رنز کی ضرورت تھی۔
رپورٹس کے مطابق بنگلا دیش کے بالر رشاد حسین نے گیند کرائی جو لیگ اسٹمپ پر آئی اور شاہین آفریدی سے دور گھوم گئی۔ آن فیلڈ امپائر نے اسے وائیڈ قرار دیا، تاہم بنگلا دیش نے مشاورت کے بعد ایل بی ڈبلیو ریویو لینے کا فیصلہ کیا، حالانکہ بظاہر گیند شاہین کو ٹچ نہیں ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: علیم ڈار کے استعفیٰ کے بعد شاہد آفریدی کا پی سی بی سے بڑا مطالبہ
عام اصول کے مطابق ریویو کا فیصلہ ری پلے دکھائے جانے سے پہلے کیا جانا چاہیے تاکہ کھلاڑی اس سے متاثر نہ ہوں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ بڑی اسکرین پر گیند کا ریویو دکھانے سے بنگلا دیش کو غلط فائدہ پہنچا اور یہ ریویو ممکنہ طور پر 15 سیکنڈ کے اندر نہیں لیا گیا۔ براڈکاسٹ میں ٹائمر ظاہر نہیں ہوا، لہٰذا یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ ریویو وقت پر لیا گیا یا نہیں۔
ریویو میں دیکھا گیا کہ گیند بیٹ کے نچلے حصے سے چھو کر گئی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گیند وائیڈ نہیں تھی۔ بنگلا دیش نے ریویو کھو دیا، مگر وائیڈ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا، اور آخری گیند پر پاکستان کو 12 رنز درکار تھے۔
شاہین آفریدی آخری گیند پر اسٹمپ ہو گئے اور مایوسی میں اپنا بیٹ اسٹمپ پر مارا۔ اس کے نتیجے میں بنگلا دیش نے 11 رنز سے فتح حاصل کی اور سیریز 2-1 سے جیت لی۔
یہ واقعہ پاکستان کے لیے اس سیریز میں دوسری متنازعہ صورتحال ہے، پہلے میچ میں سلمان آغا کو رن آؤٹ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے غصے میں اپنا بیٹ اور دستانے پھینک دیے تھے، جس پر انہیں ڈیمیریٹ پوائنٹ اور 50 فیصد میچ فیس جرمانہ دیا گیا، جبکہ مہدی حسن میراز کو 20 فیصد میچ فیس جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔




















