کیا چاند کے وجود کو تباہی کا خدشہ دوچار ہے؟ ناسا کی جانب فراہم کی گئی نئی معلومات نے پوری دنیا کے ماہرین فلیکیات کو پریشانی سے دوچار کردیا۔
گزشتہ روز ناسا نے شہابِ ثاقب 2024 YR4 کے بارے میں تازہ معلومات جاری کردی ہیں۔ جن کے مطابق اس خلائی چٹان کے چاند سے ٹکرانے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
ناسا کے مطابق یہ امکانات فی الحال تو چار فی صد تک ہی پہنچے ہیں مگر یہ چاند کے وجود کے لئے پریشان کن ہے۔
حتمی صورتحال آئندہ سال فروری میں اُس وقت واضح ہوگی جب اس کی درست پوزیشن کا اندازہ لگایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ شہاب ثاقب اپنی موجودہ ممکنہ سمت پر رہا تو سال 2032 میں یہ چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔
A new study suggests that a small asteroid called 2022 RD2 could orbit Earth as a temporary second moon in less than 20 years, before potentially impacting Earth decades later. pic.twitter.com/ok7yBWIjpZ
— AccuWeather (@accuweather) November 24, 2025
اگر شہاب ثاقب چاند سے ٹکرا گیا تو کیا ہوگا؟
ایسے میں اس ٹکراؤ سے ہونے والا نقصان انتہائی سنگین ہوسکتا ہے۔ کیونکہ خلائی اثرات نہ صرف چاند بلکہ زمین کے گرد گردش کرنے والے نظاموں تک پہنچ سکتے ہیں۔
فروری 2026 میں جدید ترین جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس آبیٹل آبجیکٹ کا باریک بینی سے مشاہدہ کیاجائے گا۔
ناسا نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ فروری میں ٹکراؤ کے امکانات اچانک بڑھ کر 30 فی صد تک بھی جا سکتے ہیں۔
یہ شہاب ثاقب 2024 کے آخر میں دریافت ہوا تھا، جب ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ زمین سے ٹکرانے والے خطرناک ترین آسمانی پتھروں میں شمار ہو رہا تھا۔
اُس وقت 3 فی صد امکان ظاہر کیا گیا تھا، لیکن بعد کی مشاہداتی تصاویر نے زمین کے لیے خطرہ تقریباً ختم کردیا۔
تاہم اب نیا خطرہ سامنے آیا ہے کہ تقریباً 50 سے 100 میٹر قطر رکھنے والا تقریباً ایک فٹبال گراؤنڈ کے برابر یہ شہاب ثاقب چاند سے ٹکرانے کی سمت بڑھ سکتا ہے۔

