بیٹریاں جب قابل استعمال نہیں رہتی تو وہ مختلف کیمیکلز کی وجہ سے ماحول کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں تاہم اب لیموں اور جیلیٹن سے ایسی بیٹری تیار کی گئی ہے جو توانائی کا بہترین متبادل ہونے کے ساتھ ماحول دوست بھی ہے۔
ایک نئی بایوڈیگریڈایبل، لچکدار بیٹری جو جیلیٹن اور قدرتی ایسڈز سے بنائی گئی ہے، پہننے والے آلات کو طاقت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ای ویسٹ کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

میک گل یونیورسٹی کے ٹروٹیر انسٹی ٹیوٹ فار سسٹین ایبلٹی ان انجینئرنگ اینڈ ڈیزائن کے محققین نے ایک لچکدار، ماحول دوست بیٹری تیار کی ہے جسے کسی بھی زاویہ سے موڑا جاسکتا ہے اور اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر ماحول میں گل سڑ جاتی ہے، اس ڈیزائن کا مقصد پہننے والے آلات سے پیدا ہونے والے بڑے پیمانے پر بیٹری کے فضلے کو کم کرنا ہے۔
ٹیم نے روایتی بیٹریوں میں استعمال ہونے والے ہیوی میٹل الیکٹروڈز کی جگہ بایوڈیگریڈیبل مواد استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کی، اور اس کے ساتھ ہی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:بچینی کمپنی نے 50 سال تک چلنے والی انقلابی بیٹری تیار کرلی
میگنیشیم اور مولیبیڈنم، جو بایوڈیگریڈیبل بیٹری کے تصورات میں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، ہیوی میٹلز کی نسبت زیادہ آسانی سے گل سڑ جاتے ہیں، لیکن ان کی کارکردگی عموماً کم ہوتی ہے۔

اس سے قبل بیٹری میں میگنیشیم کا استعمال کیا جاتا تھا تاہم اس طرح کی بیٹری پر وقت گزرنے ساتھ ایک پرت بن جاتی تھی اور یہی پرت توانائی پیدا کرنے کے عمل میں رکاوٹ کا سبب بنتی تھی اس طرح وولٹیج اور بیٹری کی عمرکم ہوجاتی تھی۔
اس مسئلے کے حل کے لیے محققین نے دو قدرتی سٹرک ایسڈ اور لیکٹک ایسڈ کا استعمال کیا۔ جب ان ایسڈز کو جیلیٹن میں ملایا گیا، تو اس طرح پرت بننے کا سلسلہ رک گیا اور ساتھ ہی بیٹری کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔
بیٹری کو روزمرہ کے استعمال کے لیے لچکدار بنانے کے لیے، ایسڈز کو جیلیٹن میں معلق کیا گیا، جس سے ایک نرم، کھنچنے کے قابل الیکٹرولائٹ تیار ہوا۔

محققین نے پھر بیٹری کو کِریگامی پیٹرن میں کاٹا یہ ایک جیومیٹرک تکنیک ہے جو مواد کو بغیر پھٹے کھینچنے اور مڑنے کی اجازت دیتی ہے۔
کِریگامی پہلے لچکدار الیکٹرانکس ڈیوائسز میں استعمال ہو چکا ہے، لیکن بایوڈیگریڈیبل بیٹریز میں اس کا استعمال کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاہم ٹیسٹنگ کے دوران، کِریگامی پیٹرن والی بیٹری نے 80 فیصد تک کھنچنے کے باوجود بہتر کارکردگی پیش کی۔
ٹیم نے بیٹری کو جب ایک پریشر سینسر سے منسلک کیا، تو بیٹری نے تقریباً 1.3 وولٹ فراہم کیے، جو کہ معیاری AA بیٹری کے 1.5 وولٹ سے تھوڑا کم ہے، لیکن پہننے والی الیکٹرانکس ڈیوائس کو چلانے کے لیے کافی ہے۔
محققین اب اس ٹیکنالوجی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے صنعتوں سے رابطہ کر رہےہیں تاکہ آئندہ کے مراحل میں ڈیزائن کو امپلانٹس کے لیے مزید چھوٹا کرنے، مجموعی کارکردگی کو بڑھانے کے ساتھ بیٹری کو مکمل طور پر بایوڈیگریڈیبل سرکٹس کے ساتھ جوڑا جاسکے۔



















