Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین 2 لاکھ سیٹلائٹس مدار میں کیوں بھیجنا چاہتا ہے؟

اس وقت زمین کے مدار میں تقریباً 14,300 فعال سیٹلائٹس ہیں

چین مستقبل میں 2 لاکھ سیٹلائٹس زمین کے مدار میں لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یہ قدم شاید اصل میں سب سے بڑی سیٹلائٹ کنسٹلیشنز بنانے کا نہیں بلکہ مدار میں جگہ محفوظ کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

29  دسمبر کو، چین کے ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو اسپیکٹرم یوٹیلائزیشن اینڈ ٹیکنولوجیکل انوویشن نے بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کو دو سیٹلائٹ  کنسٹلیشنز کے لیے درخواست دی، جن کے نام CTC-1 اور CTC-2 ہے اور ان میں ہر ایک میں 96,714 سیٹلائٹس ہوں گے، جو خلا کے 3660 مداروں میں پھیل کر گردش کریں گے۔

واضح رہے کہ اس وقت زمین کے مدار میں تقریباً 14,300 فعال سیٹلائٹس ہیں، جن میں سے زیادہ تر اسپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹس ہیں، چین کی یہ درخواست اسپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹس کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری کا مقابلہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

 چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد زمین کے گرد مدار میں اپنی سلاٹس اور ریڈیو سپیکٹرم کو محفوظ بنانا ہے۔

تاہم مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین کا یہ قدم کم مدار (LEO) میں اسپیس ایکس کی اجارہ داری کو کم کرنے کے لے ایک عالمی مقابلے کا حصہ ہے، جو نہ صرف تجارتی بلکہ دفاعی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹار لنک سیٹلائٹ میں تکنیکی خرابی، زمین پر گرنے کا خدشہ

چین کا مقصد اس اقدام کے ذریعے عالمی نیٹ ورکنگ اور خلائی فوجی صلاحیتوں میں خود مختاری حاصل کرنا ہے، جس سے وہ مستقبل میں چاند اور خلاء میں دور دراز مواصلات کے لیے مزید فائدہ اٹھا سکے گا۔

چین کی خلائی ایجنسی اس سے قبل اسٹار لنک پر اپنے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے ساتھ خطرناک قریب تصادم کا الزام عائد کر چکی ہے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب 2021 میں تصادم کئی واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

 چین کے ان الزامات نے عالمی سطح پر مدار کے ٹریفک کے اصولوں کی ضرورت اور آپریٹرز کے درمیان زیادہ شفاف رابطے پر ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ چین نے ان خدشات کے بعد اپنی میگا کنسٹلیشنز منصوبوں کو تیز کرنے کی کوششیں بڑھا دیں، نہ صرف اسپیس ایکس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے بلکہ ایک متوازی ماحولیاتی نظام بنانے کی بھی کوشش کی۔

 ماہرین کا خیال ہے کہ 2 لاکھ سیٹلائٹس کا منصوبہ فوراً مکمل نہیں ہوگا، بلکہ یہ مستقبل میں مواصلات کی انفراسٹرکچر، قومی دفاعی نظام اور ڈیٹا کی منتقلی کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی کے طور پر کام کرے گا۔

اگر چین کا یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو مدار میں فعال سیٹلائٹس کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی، جس سے خلا میں ملبہ، مدار کی پائیداری اور عالمی تعاون جیسے اہم مسائل جنم لیں گے۔

ہراضافی لانچ سے تصادم کے ردعمل کی زنجیر (Kessler Syndrome) کا خطرہ بڑھ جائے گا، جو مخصوص مداروں کو آنے والی نسلوں کے لیے ناقابل استعمال بنا سکتا ہے۔

چین کی یہ درخواست محض ایک تکنیکی بیان نہیں بلکہ یہ خلائی ماحول پر غلبہ حاصل کرنے کا عزم ہے۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خلا میں مواصلاتی نیٹ ورک پر قابو پانے سے آئندہ دہائیوں میں اقتصادی اور جیوپولیٹیکل توازن پر اثرات مرتب ہوں گے۔

ایک ایسے وقت میں جب اسپیس ایکس اپنے اسٹار لنک کے بیڑے کو بڑھا رہا ہے اور ایمازون کا پروجیکٹ کیوپر اپنا پہلا پروٹوٹائپ لانچ کر رہا ہے، چین کا 2 لاکھ سیٹلائٹس کا منصوبہ عالمی خلا کی دوڑ میں نئی شدت لے آیا ہے۔

اس منصوبے کی حجم اس بات کا غماز ہے کہ چین کی حکمت عملی تعداد کے ذریعے غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہے، جو مغرب کی تدریجی اور تجارتی نمو سے بالکل مختلف ہے۔

اگلے چند سالوں میں چیلنج صرف تکنیکی نہیں بلکہ ضوابطی ہوگا، اب دیکھنا یہ ہے کہ خلا کے مشترکہ ماحول قومی مفادات کوپورا کرتے ہوئے کیسے منظم کیا جائے گا، چاہے یہ وسیع کنسٹلیشنز مکمل ہو یا نہیں ہو، ایک بات واضح ہے کہ آسمانوں میں سبقت لے جانے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے ۔

متعلقہ خبریں