ناسا کے مطابق مشہور امریکی خاتون خلا باز سنیتا ولیمز نے 27 سالہ خدمات کے بعد ریٹائرمنٹ اختیار کرلی ہے۔ ان کا آخری خلائی مشن کچھ غیر متوقع مسائل کی وجہ سے ناقابلِ فراموش رہاتھا۔
سنیتا ولیمز اور ان کے ساتھی خلا باز بیری ’’بچ‘‘ وِل مور جون 2024 میں بوئنگ کی نئی اسٹارلائنر کیپسول کی پہلی عملے والی پرواز کے لیے 8 روزہ مشن پر روانہ ہوئے تھے۔
مشن کے دوران کیپسول میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے وہ غیر متوقع طور پر 9 ماہ تک خلا میں پھنس گئے جب کہ یہ مشن ان کے خلائی کیریئر کا آخری سفر ثابت ہوا۔
ناسا کے مطابق اسٹارلائنر کی حرکیات میں مسئلہ پیدا ہونے کے بعد خلا بازوں کی واپسی کا کام اسپیس ایکس کے حوالے کیا گیا اور بوئنگ کی پرواز کو محفوظ قرار نہیں دیا گیا۔
بالآخر مارچ 2025 میں دونوں خلا باز اسپیس ایکس کی مدد سے محفوظ زمین پر واپس آئے جس کے بعد بیری وِل مور نے اسی سال اگست میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔
ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے سنیتا ولیمز نے کہا ’’میری ناسا میں خدمات ایک ناقابلِ یقین اعزاز رہی ہیں جو لوگ مجھے جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ خلا میرا سب سے پسندیدہ مقام ہے‘‘۔
ناسا کے سربراہ جیراڈ آئزیک مین نے ولیمز کو انسانی خلائی پرواز میں رہنمائی کرنے والی ایک پیشرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خلائی اسٹیشن پر قیادت کے ذریعے مستقبل کے تحقیقی مشنز کی راہیں ہموار کیں اور زمین کے کم مدار میں کمرشل مشنز کے لیے راہنمائی فراہم کی۔
یاد رہے کہ سنی ولیمز نے اپنے کیریئر کے دوران 608 دن خلا میں گزارے جو ناسا کے خلا بازوں میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ وقت گزارنے میں دوسرے نمبر پر ہے۔
اس کے علاوہ اسٹارلائنر کے مشن کے باعث وہ امریکی خلا بازوں کی سب سے طویل ایک مرتبہ کی پرواز کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہیں۔
سنیتا ولیمز نے کل نو ایسپیس واک مکمل کیں جو 62 گھنٹے پر محیط تھی۔ یہ کسی خاتون خلا باز کی سب سے زیادہ اور مجموعی طور پر تمام خلا بازوں میں چوتھی سب سے زیادہ اسپیس واک کا ریکارڈ ہے۔




















