Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

زمین کے نیچے لگے آلات نے خلا کے خطرے کو کیسے پکڑا؟ نئی تحقیق نے چونکا دیا

اگرچہ خلائی ملبے کو روکنا ممکن نہیں لیکن گرنے کے عمل کو واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے، سائنسدان

سائنس دانوں نے خلا سے زمین کی فضا میں داخل ہونے والے بے قابو خلائی ملبے کی نگرانی کا ایک نیا اور مؤثر طریقہ دریافت کرلیا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب خلائی ملبہ تیز رفتاری سے فضا میں داخل ہوتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والے زور دار آواز کے دھماکے زمین پر موجود زلزلہ ناپنے والے آلات کے ذریعے محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

عام طور پر یہ آلات زمین کے اندرونی جھٹکوں اور حرکات کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ یہی آلات فضا میں تیز رفتار اجسام کی پیدا کردہ لہروں کو بھی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس نظریے کو عملی طور پر جانچنے کے لیے ماہرین نے اپریل 2024 میں خلا سے واپس آنے والے ایک خلائی ماڈیول کا مطالعہ کیا جو جنوبی امریکا کے اوپر زمین کی فضا میں داخل ہوا۔

زلزلہ ناپنے والے نیٹ ورک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار نے نہ صرف اس کے داخلے کی تصدیق کی بلکہ اس کی رفتار، بلندی، زاویہ، حجم اور ٹوٹ پھوٹ کے مراحل کی بھی درست معلومات فراہم کیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ خلا سے آنے والے اجسام آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہوتے ہیں جس کے باعث ان کے پیچھے دباؤ کی لہروں کا ایک مخروطی سلسلہ بنتا ہے جو زمین تک پہنچ کر زور دار دھماکوں کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس مخصوص ماڈیول کی رفتار آواز سے 25 سے 30 گنا زیادہ تھی اور فضا میں داخل ہوتے وقت پہلے ایک بڑا دھماکا ہوا، بعد ازاں متعدد چھوٹے دھماکے سنائی دیے جو اس کے ٹکڑوں میں بکھرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اگرچہ یہ خلائی ملبہ مکمل طور پر جل کر ختم ہوگیا مگر تحقیق سے ثابت ہوا کہ ایسے آلات کے ذریعے مستقبل میں ان اجسام کی نگرانی زیادہ درست انداز میں کی جاسکتی ہے۔

اس سے نہ صرف زمین پر گرنے والے ممکنہ ملبے کی جگہ کا اندازہ لگایا جاسکے گا بلکہ فضا میں پھیلنے والے نقصان دہ ذرات کی سمت اور اثرات کو بھی بہتر طور پر سمجھا جاسکے گا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلائی ملبے کی واپسی کو روکنا فی الحال ممکن نہیں لیکن اب اس کے گرنے کے عمل کو زیادہ واضح طور پر دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔