چینی محققین کے ایک گروپ نے ریفریجریشن ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت حاصل کی ہے اور ایک نیا کولنگ ایفیکٹ دریافت کیا ے جو کم کاربن اخراج، زیادہ ٹھنڈک کی صلاحیت اور اعلیٰ حرارت کی منتقلی کی کار کرکردگی کو بیک وقت ممکن بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
نیچر جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ریفریجریشن ٹیکنالوجی جدید معاشرے کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے، وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی ویپر کمریشن کولنگ چین کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 2 فیصد حصہ ڈالتی ہے تاہم یہ ملک کی تقریباً 20 فیصد بجلی استعمال کرتی ہے اور 7.8 فیصد کاربن اخراج کی ذمہ دار بھی ہے۔
زیادہ کارکردگی اور کاربن کے اخراج میں کمی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حالیہ برسوں میں محققین نے سالڈ اسٹیٹ کیلورک مواد تیار کیے ہیں، یہ مواد دباؤ یا مقناطیسی میدان میں تبدیلی کے ذریعے حرارت جذب اور خارج کرتے ہیں جس کے اخراج کے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
تاہم ان مواد میں ایک بنیادی خامی موجود ہے کیونکہ ٹھوس اجسام حرارت کو مؤثر طریقے سے منتقل نہیں کرتے جس کے باعث بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے ان کی کارکردگی کم ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی بیٹریاں کتنے برس تک کار آمد رہتی ہے، تحقیق میں اہم انکشاف
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف میٹل ریسرچ کےلی بنگ کی قیادت میں ایک تحقیقی ٹیم نے این ایچ 4 ایس سی این نمکین محلول میں تحلیل شدہ بیروکیلورک ایفیکٹ دریافت کیا۔
جب اس محلول پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تو ٹھوس این ایچ 4 ایس سی این الگ ہو کر حرارت خارج کرتا ہے، دباؤ کم کرنے پر یہ نمک تیزی سے محلول میں حل ہوجاتا ہے اور بڑی مقدار میں حرارت جذب کرتا ہے۔
کمرے کے درجہ خرارت پر اس محلول کا درجہ حرارت 20 سیکنڈ کے اندر30 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہوسکتا ہے، جبکہ زیادہ درجہ حرارت پر اس سے بھی بہتر ٹھنڈک حاصل کی جاسکتی ہے جو موجودہ سالڈ اسٹیٹ کیلورک مواد کی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ نیا طریقہ ریفریجرنٹ اور حرارت کی منتقلی کے ذرائع کو ایک ہی سیال میں یکجا کرتا ہے، جس سے کم کاربن اخراج، زیادہ ٹھنڈک کی صلاحیت اور بلند حرارت کی منتقلی کی کارکردگی ایک ساتھ حاصل ہوتی ہے۔
یہ تحقیق نہ صرف رفیفریجریشن کا ایک نیا اصول پیش کرتی ہے بلکہ بڑے پیمانے کے ڈیٹا سنٹرز کے کولنگ سسٹمز جیسی جدید اور ماحول دوست کولنگ ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے ایک اہم سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
