Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین میں جدید ترین رائفل بردار ڈرون کا کامیاب تجربہ، ماہرین حیران

یہ کامیابی مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی میں ڈرونز کے کردار کو بدل سکتی ہے، ماہرین

چین کے محققین نے ایک نئے خصوصی آپریشنز ڈرون کا انکشاف کیا ہے جو انفنٹری رائفل سے اڑتے ہوئے انسانی ہدف کو بالکل صحیح نشانے پر مار سکتا ہے۔

لائیو فائر ٹرائلز میں یہ ڈرون تقریباً 33 فٹ کی بلندی پر ہور کر 328 فٹ دور انسان نما ہدف پر 20 میں سے 20 شاٹس درست لگا گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق 20 میں سے 10 گولے صرف 4.3 انچ کے فاصلے پر مرکز کو لگے، یعنی ممکنہ طور پر ہیڈ شاٹ کے برابر۔

164 فٹ فاصلے پر ٹیسٹ میں بھی 19 میں سے 20 شاٹس درست ہدف پر لگے، جس نے ڈرون کی غیر معمولی استحکام اور نشانہ بازی کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔

یہ ڈرون عام فوجی رائفل استعمال کرتا ہے، کسی خاص یا تبدیل شدہ ہتھیار پر منحصر نہیں، جس سے یہ میدان جنگ کے لیے عملی اور تیار ٹیکنالوجی بن گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق تنظیم شدہ فائر کنٹرول سسٹمز، استحکام اور جدید ٹارگٹنگ الگوردمز کے استعمال سے چھوٹے فضائی پلیٹ فارمز بھی انتہائی درست ہتھیار بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی میں ڈرونز کے کردار کو بدل سکتی ہے، جہاں انسانی آپریشنز کم اور خودکار درستگی زیادہ ہوگی۔

یہ ٹیکنالوجی ڈرونز کو محض نگرانی یا حملے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ میدان جنگ میں براہ راست نشانہ بازی میں بھی انقلاب لا سکتی ہے۔