چینی سائنسدانوں نے سیمی کنڈکٹر چپس کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے ایسی فائبر چپ تیار کی ہے جو نہ صرف انسانی بال جتنی پتلی ہے بلکہ اتنی لچکدار بھی ہے کہ اسے کئی بار موڑا جا سکتا ہے اور یہ شدید دباؤ برداشت کر سکتی ہے۔
فوجان یونیورسٹی کے ماہرین نے اس تحقیق میں انقلابی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایسی فائبر چپ تیار کی ہے جو روایتی سیلیکون چپس کے مقابلے میں زیادہ لچکدار اور پائیدار ہے، اس چپ کو نہ صرف کپڑوں بلکہ انسانی جسم میں بھی نصب کیا جاسکتا ہے۔
یہ فائبر چپ روایتی سیلیکون چپس سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ اس میں بے شمار فائدے ہیں، جیسے کہ یہ چپ ہزاروں بار موڑی جا سکتی ہے اور اس پر سے ٹنوں وزنی ٹرک بھی گزر جائے تو بھی یہ محفوظ رہتی ہے۔ محققین کے مطابق، روایتی سیلیکون چپس جب موڑی جاتی ہیں تو فوراً ٹوٹ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر وئیر ایبل ڈیوائسز میں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی قانون سازوں کا سیمی کنڈکٹر چپ پروڈکشن کے لیے سبسڈی پر زور
سائنسدانوں نے روایتی سیمی کنڈکٹر چپ کو تیار کرنے کے بعد ایک غیر روایتی حکمت عملی اپنائی، جس کا ماخذ سوشی رول سے لیا گیا تھا۔ اس چپ پر ایک حفاظتی پولیمر شیٹ کو کوٹ کیا گیا تاکہ اس کے موڑنے پر نقصان نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ، اس چپ کو اتنا پتلا بنایا گیا کہ یہ انسانی بال جتنی ہو گئی۔
یہ فائبر چپ 180 ڈگری تک موڑی جا سکتی ہے، اسے دھویا جا سکتا ہے، اور یہ 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر بھی بخوبی کام کرتی ہے۔
اگرچہ یہ چپ ابھی کانسیپٹ مرحلے میں ہے، محققین کا کہنا ہے کہ اسے کمرشل بنیادوں پر استعمال کے لیے ابھی کچھ مزید وقت درکار ہوگا۔ تاہم، اس چپ کی ترقی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں وئیر ایبل ڈیوائسز اور دیگر ٹیکنالوجیز میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔




















