Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

شدید حرارت برداشت کرنے والا نیا فائرفائٹر ڈرون تیار

یہ ڈرون عمارتوں یا صنعتی مقامات میں اندرونی پرواز اور جی پی ایس کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے، جلد ہی یہ ڈرون فائر فائٹر کی مدد کرنے کے لیے دستیاب ہوگا

سائنسدانوں نے ایک ایسا حیرت انگیز ڈرون تیار کیا ہے جو 200 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس فائرڈرن میں کیمرے اور سینسرز نصب ہیں جو ریموٹ کنٹرول پر ریئل ٹائم میں تھرمل امیجز بھیجتے ہیں تاکہ فائر فائٹرز اور دیگر افراد ایک ہی وقت میں صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ یہ ڈرون عمارتوں یا صنعتی مقامات میں اندرونی پرواز اور جی پی ایس کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے، جلد ہی یہ ڈرون فائر فائٹر کی مدد کرنے کے لیے دستیاب ہوگا۔

یہ ٹیکنالوجی سوئٹزرلینڈ کی سوئس فیڈرل لیبارٹریز فار میٹریلز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (EMPA) میں کئی سالوں سے تیار کی جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں فائرڈرن جیسا شاہکار سامنے آیا۔

 ڈرون نے 2023 میں 392 ڈگری فارن ہائیٹ (200 ڈگری سینٹی گریڈ)  تک کے انتہائی درجہ حرارت کو کامیابی کے ساتھ برداشت کیا، یہی خوبی اسے روایتی ڈرونز سے کہیں زیادہ طاقتور بناتی ہے جو محض 104 فارن ہائیٹ یعنی 40 ڈگری  سینٹی گریڈ تک ہی برداشت کرسکتے ہیں۔

اس ڈرون کی کامیابی کا اصل راز ایک ہلکے مسام دار جیل کا استعمال ہے، جس میں ایئر پاکٹس شامل ہیں جو الیکٹرانکس کو انسولیٹ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے بعد، انسولیٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے ایک نئے مواد، پولی امائیڈ ایرو جیل کا استعمال کیا گیا ہے، جو زیادہ لچکدار اور گرمائش کو برداشت کرنے والا ہے۔

یہ نہ صرف جلی ہوئی عمارتوں میں لوگوں کو بچانے کے لیے بلکہ صنعتی آگ جیسے بھٹیاں یا کیمیکل فیکٹریز میں بھی مددگار ثابت ہو گا، جہاں کئی دنوں تک آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے تیز ترین ڈرون نے دوبارہ عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

اب یہ فائرڈرنون تحقیق سے ایک مکمل پروڈکٹ میں تبدیل ہو رہا ہے جو جلد ہی تجارتی طور پر دستیاب ہوگا۔ اسے آگ سے پیدا ہونے والی گیسوں کو سونگھنے اور باہر کی درجہ حرارت کو ماپنے کے لیے اضافی سینسنگ آلات سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کے لیے ایک تھرمل انسولیٹڈ ڈاکنگ اسٹیشن بھی بنایا جا رہا ہے جہاں یہ اپنی پرواز کے بعد لینڈ کر کے اڑنے کے لیے دوبارہ تیار ہو سکے گا۔