بلیک مون کیا ہے؟ نایاب قمری منظر جو دکھائی نہیں دے پاتا ۔ اگرچہ فلکیات کی باقاعدہ اصطلاح نہیں کہا جاتا، مگر یہ نام عوام میں خاصا مقبول ہو چکا ہے۔
یہ مظہر دراصل نیو مون (نیا چاند) کے مرحلے پر وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جب چاند زمین اور سورج کے عین درمیان آ جاتا ہے۔
اس مرحلے پر چاند کا روشن حصہ زمین کی طرف نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے وہ مکمل طور پر نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور آسمان پر دکھائی نہیں دیتا۔ اسی لیے اسے بلیک مون کہا جاتا ہے۔
بلیک مون کب اور کیسے بنتا ہے؟
فلکی ماہرین کے مطابق بلیک مون عموماً ہر 29 ماہ بعد رونما ہوتا ہے۔ بلیو مون کے برعکس، بلیک مون اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دوسری مرتبہ نیو مون واقع ہو۔
بعض صورتوں میں اگر کسی ایک فلکیاتی موسم کے دوران چار نیو مون آ جائیں۔ تو ان میں سے تیسرے نیو مون کو بلیک مون قرار دیا جاتا ہے۔
نیو مون کے دوران چاند کیوں نظر نہیں آتا؟
نیو مون کے وقت چاند سورج کے اسی رخ پر موجود ہوتا ہے جس سے اس کا تاریک حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے چاند مکمل طور پر سیاہ دکھائی دیتا ہے۔
سورج غروب ہونے کے تقریباً 30 سے 40 منٹ بعد مغربی افق پر ہلکی سی باریک ہلالی شکل نمودار ہو سکتی ہے۔

اگلا بلیک مون کب ہوگا؟
ماہرین فلکیات کے مطابق اگلا بلیک مون 31 اگست 2027 کو وقوع پذیر ہوگا۔جو آسمان کے نایاب اور دلچسپ مناظر میں شمار کیا جائے گا۔
اس سے قبل 23 اگست 2025 کو بلیک مون دیکھا جا چکا ہے۔
فلکیات کے شوقین افراد کے لیے خاص موقع
بلیک مون اگرچہ آنکھوں سے واضح طور پر نظر نہیں آتا۔ تاہم فلکیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ مظہر خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے قمری واقعات کائنات کے نظام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔رات کے آسمان کی پراسرار خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔


















