دنیا کی بڑی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طرف تیزی سے منتقلی اور وبا کے بعد تنظیمِ نو کے عمل کے تحت تقریباً 16 ہزار کارپوریٹ ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ تین ماہ کے دوران ملازمین میں کمی کا دوسرا بڑا مرحلہ ہے، جس نے عالمی ٹیک انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایمیزون کے مطابق کمپنی جنریٹو اے آئی کو وسیع پیمانے پر اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی کارپوریٹ عہدے غیر ضروری ہو رہے ہیں۔
وبا کے دوران آن لائن خریداری میں غیر معمولی اضافے کے باعث ایمیزون نے اپنی افرادی قوت میں نمایاں توسیع کی تھی، تاہم اب اخراجات میں کمی اور ڈھانچے کو سادہ بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
کمپنی کی سینئر نائب صدر بیتھ گلیٹی نے بدھ کو ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ایمیزون انتظامی سطحوں میں کمی، ذمہ داریوں میں اضافہ اور غیر ضروری بیوروکریسی ختم کر رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن بزنس یونٹس یا کن ممالک میں یہ ملازمتیں متاثر ہوں گی۔
یہ تازہ فیصلے اکتوبر میں ہونے والی 14 ہزار ملازمتوں کی کٹوتی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ گلیٹی کے مطابق بعض شعبوں میں تنظیمی تبدیلیاں پہلے مکمل ہو گئیں تھیں، جبکہ کچھ یونٹس میں یہ عمل اب جا کر ختم ہوا ہے۔
امریکی ملازمین کو اندرونِ کمپنی نئی ملازمت تلاش کرنے کے لیے 90 دن دیے جائیں گے، جبکہ ناکام رہنے والوں کو سیورینس پے، آؤٹ پلیسمنٹ سروسز اور ہیلتھ انشورنس کی سہولت دی جائے گی۔
سی ای او اینڈی جیسی، جو 2021 میں جیف بیزوس کے بعد عہدہ سنبھالنے کے بعد اخراجات میں نمایاں کمی کر رہے ہیں، پہلے ہی عندیہ دے چکے تھے کہ آنے والے برسوں میں جنریٹو اے آئی ایمیزون کی کارپوریٹ افرادی قوت کو کم کر دے گی۔
یہ کٹوتیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب ایمیزون مالی طور پر مضبوط پوزیشن میں ہے۔ حالیہ سہ ماہی میں کمپنی کا منافع تقریباً 40 فیصد اضافے کے ساتھ 21 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ آمدن 180 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام مالی بحران نہیں بلکہ کارپوریٹ کلچر اور مستقبل کی ٹیکنالوجی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔


















