دنیا بھر میں تھرمل پیپر کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے، سپر مارکیٹ کی رسیدیں، ریستوران کے بل، سنیما کے ٹکٹ، بورڈنگ پاسز اور بہت سی دوسری چیزیں اسی پر چھپی ہوتی ہیں۔
تھرمل پیپر بنیادی طور پر عام کاغذ ہی ہوتا ہے جس پر خاص کیمیکلز کی تہہ چڑھائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس پر بغیر سیاہی کے پرنٹنگ ممکن ہوتی ہے۔ حرارت لگنے پر یہ تہہ سیاہ ہو جاتی ہے اور یہ کاغذ برسوں تک اس چھپی ہوئی معلومات کو محفوظ رکھتا ہے۔
زیادہ استعمال اور سستا ہونے کی وجہ سے یہ بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتاہے اگرچہ یہ کاغذات سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ایسے کیمیکل ہوتے ہیں جو ماحول اور انسان دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
یہ کیمیکل ری سائیکلنگ کے دوران پانی اور مٹی میں شامل ہو جاتے ہیں اور رسیدیں زیادہ سنبھالنے والوں کے جسم میں بھی پائے گئے ہیں۔ اسی لیے سائنس دان ایک محفوظ اور قدرتی متبادل تلاش کر رہے تھے۔

سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے لکڑی سے حاصل ہونے والے ایک قدرتی مادے لگنن کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جن کے نتائج حیران کن تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لکڑی کا استعمال کرتے ہوئےدلچسپ سوڈیم آئن بیٹری تیار
لگنن وہ قدرتی مادہ ہے جو لکڑی کے ریشوں کو آپس میں جوڑتا ہے، مگر کاغذ اور لکڑی کی صنعت میں اس کا زیادہ استعمال نہیں ہوتا اور عموماً اسے بے مصرف سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، لگنن پرنٹنگ میں استعمال کے قابل ہے کیونکہ اس میں ایسے کیمیائی اجزا ہوتے ہیں جو رنگ پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں بالکل اسی اصول پر جس پر روایتی رسیدیں اور ٹکٹ بنتے ہیں۔

یہ نیا کاغذ مخصوص درجہ حرارت پر پرنٹ ہو جاتا ہے، اور سورج کی روشنی سے متاثر ہوئے بغیر کافی عرصے تک خراب نہیں ہوتا جبکہ اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ عام تھرمل پیپر کے مقابلے میں بہت کم نقصان دہ ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ابھی اس کی پرنٹنگ اتنی گہری نہیں ہے جتنی عام رسیدوں میں ہوتی ہے، لیکن سائنس دان اس پر مزید کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ان ماحول دوست رسیدوں کا عام کیا جاسکے۔




















